وزیراعظم عمران خان کی زیادتی کے مجرموں کو نامرد کرنے کے قانون کی منظوری

وزیراعظم عمران خان کی زیر صدارت وفاقی کابینہ کا اجلاس ہوا جس میں قانونی ٹیم کی جانب سے ریپ آرڈیننس کا مسودہ پیش کیا گیا، قانونی ٹیم نے مجوزہ آرڈیننس کی اہمیت پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ خواتین پولیسنگ، فاسٹ ٹریک مقدمات اور گواہوں کا تحفظ مجوزہ قانون کا بنیادی حصہ ہوگا۔

ریپ آرڈیننس کے مسودے کے مطابق متاثرہ خواتین یا بچے بلا خوف و خطر اپنی شکایات درج کراسکیں گے، متاثرہ خواتین اور بچوں کی شناخت کے تحفظ کا خاص خیال رکھا جائیگا۔

وفاقی کابینہ نے زیادتی کے مجرموں کی سخت سزاؤں پر مشتمل سفارشات کی اصولی منظوری دے دی تاہم اس قانون میں کیسٹریشن کو شامل کیا گیا ہے جبکہ سزائے موت سفارشات میں شامل نہیں۔

بعض وفاقی وزرا نے زیادتی کے مجرموں کو پھانسی کی سزا دینے کو نئے قانون کا حصہ بنانے کا مطالبہ کیا۔ خبر رساں ادارے کے مطابق وفاقی وزیر فیصل واوڈا، اعظم سواتی اور نورالحق قادری نے بھی پھانسی کی حمایت کی۔ وزیراعظم عمران خان نے رائے دی کہ ابتدائی طور پر کیسٹریشن کے قانون کی طرف جانا چاہیے۔

وزیراعظم نے زیادتی کے مجرموں کے لئے نامرد بنانے کا قانون لانے کی بھی اصولی منظوری دیتے ہوئے کہا کہ ہم نے اپنے معاشرے کو محفوظ ماحول دینا ہے، یہ سنگین نوعیت کا معاملہ ہے جس کی قانون سازی میں کسی قسم کی تاخیر نہیں کریں گے۔

عمران خان نے یہ بھی کہا کہ عوام کے تحفظ کیلئے واضح اور شفاف انداز میں قانون سازی ہو گی، یقینی بنایا جائیگا کہ زیادتی کے مجرموں کیلئے سخت سے سخت قانون کا جلد از جلد اطلاق ہو۔