وزیراعظم نے یقین دلایا ہے کہ ہر صورت انصاف ہوگا، راجا ریاض


اسلام آباد جہانگیر ترین گروپ کے اراکین قومی و صوبائی اسمبلی کی وزیراعظم سے ملاقات ہوئی جس میں جہانگیر ترین کے کیسوں سے شہزاد اکبر کو الگ کرنے اور جوڈیشل کمیشن بنانےکا مطالبہ کیا گیا‘وزيراعظم نے جوڈيشل کمیشن کا مطالبہ مسترد کردیا جبکہ دیگر امور کے لیے وقت مانگ لیا۔

روزنامہ جنگ کے مطابق

ملاقاتیوں نے دعویٰ کردیا کہ وزیراعظم نے شہزاد اکبر کو ہٹانے پر اتفاق کرلیا ہے ‘ اب عمران خان خود یہ معاملہ دیکھیں گے‘ہمیں اپنے کپتان پر اعتماد ہے کہ وہ انصاف کریں گے‘ جہانگیر ترین کے حامی ارکان اسمبلی نے وزیراعظم کی جانب سے تمام مطالبات تسلیم کیے جانے کا دعویٰ کیا ہے۔

ملاقات کے بعدمیڈیا سے گفتگو میں رکن قومی اسمبلی راجا ریاض کا کہنا ہے کہ ملاقات میں وزیراعظم نے یقین دلایا ہے کہ ہر صورت انصاف ہوگا ،کسی کے ساتھ زیادتی نہیں ہونے دیں گے۔

نذیر چوہان کہتے ہیں کہ وزیراعظم نے ان کی تمام باتیں مان لیں،شہزاد اکبر سے متعلق تحفظات پر وزیراعظم نے کہا کہ جہانگیر ترین کیس خود مانیٹر کریں گے۔

اس موقع پر رکن صوبائی اسمبلی نذیر چوہان نے کہا کہ وزیراعظم نے تفصیل سے ہماری بات سنی، ہم نے وزیراعظم کے سامنے تحفظات رکھے، وزیراعظم نے یقین دہانی کرائی ہے جہانگیر ترین کے ساتھ ناانصافی نہیں ہوگی، ہم نے مطالبہ کیا شہزاد اکبر کی ٹیم سے کیسز لے کر غیر جانبدار ٹیم بنائیں۔

راجا ریاض نے کہا کہ وزیراعظم سے خوشگوار ماحول میں بات ہوئی، وزیراعظم نے یقین دہانی کرائی ہے انصاف کے تقاضے پورے کیے جائیں گے، شہزاد اکبر سے متعلق تحفظات وزیراعظم کے سامنے رکھے، وزیراعظم نے کہا معاملہ مجھ پرچھوڑ دیں، کسی کے ساتھ زیادتی نہیں ہونے دوں گا، ہم اپنے کپتان پر اعتماد ہے کہ وہ انصاف کریں گے۔

عمران خان سے ملاقات میں ہم خیال گروپ نے مشیر احتساب مرزا شہزاد اکبر کے خلاف چارج شیٹ پیش کیجسمیں الزام عائد کیا گیا ہے کہ شہزاد اکبر ایف آئی اے کو جہانگیر ترین کے خلاف استعمال کر رہے ہیں،چارج شیٹ کے متن کے مطابق خسرو بختیار گروپ اور ہارون اختر گروپ کی تمام ملوں کو تحقیقات کا حصہ نہیں بنایا گیا جبکہ اومنی گروپ اور شریف خاندان کی ساری ملوں کو بھی تحقیقات کا حصہ نہیں بنایا گیا۔

دریں اثناءجہانگیر ترین کے زیر صدارت ہم خیال گروپ کے مشاورتی اجلاس کی اندرونی کہانی سامنے آگئی ہے۔ ذرائع کے مطابق اجلاس کے شرکا نے شہزاد اکبر کو اس کیس سے علیحدہ کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ وزیراعظم سیاسی افراد کو اپنی مشاورت میں شامل کریں۔

جہانگیر ترین ترین کے پارٹی وفادار ساتھی اور اہم اثاثہ ہیں، حکومت سازی میں ان کا کردار کسی سے ڈھکا چھپا نہیں، ان کے ساتھ وہ زیادتی کی جا رہی ہے جو ن لیگ نے بھی نہیں کی۔

پی ٹی آئی رکن اسمبلی نذیر چوہان کا کہنا تھا کہ عمران خان ذرا ہمیں بتائیں کہ شہزاد اکبر کی پارٹی کے لیے خدمات کیا ہیں؟، وہ اس شخص کے کہنے پر مخلص ساتھیوں کو خود سے دور کر رہے ہیں۔ یہ لوگ جہانگیر ترین کے نہیں بلکہ پی ٹی آئی اور وزیراعظم کے دشمن ہیں۔ شاہ محمود قریشی نے گزشتہ روز جو بیان دیا، وہ ایک مخلص ساتھی کا نہیں ہو سکتا۔