وزیر اعظم عمران خان سے جہانگیر ترین ہم خیال گروپ کی ملاقات کا نتیجہ کیا نکلا ؟


وزیراعظم سے جہانگیر ترین ہم خیال گروپ کی ملاقات ہوئی تو سب اس ملاقات کی اندرونی کہانی پر سب کی نظر جم گئی، ملاقات کے حوالے سے ذرائع کا کہنا ہے کہ وزیراعظم نے شوگر کمیشن پر جاری تحقیقات پر کسی قسم کا دباؤ قبول کرنے سے انکار کردیا۔

دوسری جانب وزیراعظم نے ملاقات کے دوران کہا کہ میرا حکومت میں آنے کا مقصد نظام انصاف قائم کرنا ہے، جہانگیر ترین سمیت کوئی ذمہ دار نکلا قانون کے مطابق کارروائی ہوگی اور بلاامتیاز ہوگی۔


وزیراعظم نے واضح کیا کہ اگر کسی کو لگتا ہے کہ دباؤ میں آکر تحقیقات روک دوں گا تو وہ بڑی غلطی پر ہے،وزیراعظم نے سینیٹر علی ظفر کو ہم خیال گروپ کے تحفظات سننے کے لیے نامزد کردیا، جس کے بعد سینیٹر علی ظفر ایف آئی اے مقدمات کا بھی جائزہ لے کر رائے دیں گے، ہم خیال گروپ کے تحفظات سن کر وزیراعظم کو بریفنگ دیں گے۔

دوسری جانبوزیر اعظم نے سینیٹر علی ظفر کی نامزدگی پر راجا ریاض کا اعتراض مسترد کردیا ہے،وزیراعظم نے کہا کہ آپ میں سے بہت لوگ بعد میں تحریک انصاف کا حصہ بنے، یہ ذہن میں رکھیں کہ میں صرف وزیر اعظم رہنے کے لیے حق کا ساتھ چھوڑ دوں تو ایسا نہیں ہوگا۔

جہانگیر ترین کے ہم خیال گروپ نے رکن قومی اسمبلی راجہ ریاض کی سربراہی میں گزشتہ روزوزیر اعظم عمران خان سے وزیر اعظم ہاؤس میں ملاقات کی اور انھیں جہانگیر ترین اور ان کے بیٹے علی ترین کے خلاف حالیہ درج ہونے والے مقدمات اور مشیر برائے احتساب شہزاد اکبر کے بارے میں اپنے تحفظات سے آگاہ کیا۔

ملاقات کے بعد میڈیا سے گفتگو میں راجہ ریاض کا کہنا تھا کہ وزیر اعظم نے یہ یقین دلایا ہے کہ جہانگیر ترین کے خلاف درج ہونے والے مقدمات کی تفتیش میرٹ پر کی جائے گی،وزیر اعظم نے یقین دہانی کروائی ہے کہ وہ تفتیش کی نگرانی خود کریں گے تا کہ کسی کے ساتھ ذیادتی نہ ہو۔