وسیم خان کی مدت ملازمت میں توسیع احسان مانی کے مستقبل سے مشروط کر دی گئی


لاہور پاکستان کرکٹ بورڈ(پی سی بی) نے اپنے عہدے میں ایک سال کی توسیع کے خواہشمند چیف ایگزیکٹو وسیم خان کی درخواست اس وقت تک روک دی ہے جب تک بورڈ کے پیٹرن اِن چیف وزیر اعظم عمران خان پی سی بی چیئرمین احسان مانی کے مستقبل کے بارے میں فیصلہ نہیں لے لیتے کہ اس سال ستمبر میں ان کی 3 سال مدت میں توسیع کی جائے گی یا نہیں؟۔

میڈیا رپورٹ کے مطابق وسیم کے ساتھ طے پانے والے معاہدے کے مطابق پی سی بی فروری 2022ء میں ان کے معاہدے کی مدت ختم ہونے سے قبل ملازمت میں ایک سال کی توسیع کرسکتا ہے، پی سی بی نے فروری 2021ء میں ان کی توسیع کے بارے میں فیصلہ کرنا تھا لیکن ایسا نہیں ہوسکا۔گزشتہ ماہ کراچی میں ہونے والے پی سی بی بورڈ آف گورنرز کے اجلاس میں وسیم خان کی ایک سال کی توسیع کی درخواست پر تبادلہ خیال کیا گیا تاہم پی سی بی نے اجلاس کے بعد اس بارے میں کوئی اعلان نہیں کیا۔

میڈیا رپورٹ کے مطابق معلوم ہوا کہ اگرچہ بورڈ آف گورنرز کے اراکین نے کسی طرح وسیم کو توسیع دینے کا عندیہ دیا ہے تاہم بعد میں انہیں خیال آیا کہ پہلے پیٹرن ان چیف کو احسان مانی کے مستقبل کا فیصلہ کرنے دیا جائے۔ ذرائع کے مطابق اصولی طور پر دیکھا جائے تو اگر ستمبر 2021 میں احسان مانی کو توسیع نہ ملی تو یہ مناسب نہیں لگے گا کہ موجودہ چیئرمین پی سی بی وسیم خان کو توسیع دیں۔یہ عین ممکن ہے کہ پی سی بی کے نئے چیئرمین وسیم خان سے اتفاق نہ رکھتے ہوں، اسی طرح اگر وسیم خان اور نئے پی سی بی چیف ایک صفحے پر نہیں ہوں گے تو بہت سی پیچیدگیاں پیدا ہوسکتی ہیں۔

لاہور میں کچھ نامہ نگاروں سے اپنی آخری گفتگو کے دوران مانی نے ان کی توسیع سے متعلق ایک سوال کا مبہم جواب دیا تھا۔انہوں نے کہا تھا کہ میں نے ستمبر 2018 میں جو اہداف طے کیے تھے وہ تمام اہداف حاصل کر لیے ہیں اور اگر مجھے پی سی بی کے چیف کی حیثیت سے کام جاری رکھنے کے لیے کہا گیا تو میں اس بارے میں سوچوں گا اور پھر فیصلہ کروں گا، مجھے یہ دیکھنا پڑے گا کہ میں آگے کچھ بھی حصہ ڈال سکتا ہوں یا نہیں کیونکہ میں صرف کرسی پر نگاہ نہیں رکھتا۔انہوں نے میڈیا سے یہ گفتگو پاکستان سپر لیگ کے چھٹے ایڈیشن کے آغاز سے دو دن قبل 20 فروری کو کراچی میں کی تھی، اس وقت چیئرمین بہت پراعتماد نظر آئے کیونکہ پی سی بی نے کامیابی کے ساتھ جنوبی افریقہ کی ٹیم کی میزبانی کی تھی اور پروٹیز کے خلاف ٹیسٹ اور ٹی20 سیریز جیت لی تھی، تاہم احسان مانی آنئے والے دنوں میں ملنے والی بری خبر سے بے خبر تھے جو پاکستان کرکٹ کے سب سے بڑے برانڈ پاکستان سپر لیگ کے التوا کی شکل میں سامنے آئی۔کووڈ-19 چیلنج سے نمٹنے کے لیے این سی او سی کی جانب سے وضع کردہ ایس او پیز پر عمل کرنے کے حوالے سے انتظامیہ کی ناکامی کے نتیجے میں پی ایس ایل کو 4 مارچ کو درمیان میں ملتوی کردیا گیا تھا کیونکہ لیگ میں کووڈ-19 کے 7 کیس رپورٹ ہوئے تھے، التوا کے نتیجے میں پی ایس ایل کی ناقص انتظامیہ کو شدید تنقید کا سامنا کرنا پڑا اور پی سی بی کو پیچھے ہٹنا پڑا تھا۔

پی سی بی کے حلقوں کا خیال ہے کہ وزیر اعظم پی ایس ایل 6 میچوں کی میزبانی کے سلسلے میں احسان مانی اور وسیم کی جانب سے کی گئی غلطیوں کو نظر انداز نہیں کریں گے۔مزید یہ کہ پچھلے 18 مہینوں سے ڈومیسٹک کرکٹ ڈھانچے کو معطل رکھنا اور محکمہ جاتی کرکٹ کو اچانک ختم کرنے کی وجہ سے بھی پی سی بی کو کافی تنقید کا سامنا کرنا پڑا۔کرکٹ کے میدان کی بات کی جائے تو پاکستانی ٹیم بیرون ملک بھی کوئی سیریز جیتنے میں ناکام رہی کیونکہ مصباح الحق کو چیف سلیکٹر اور ہیڈ کوچ کی دوہری ملازمت سونپنے کا تجربہ بری طرح سے ناکامی سے دوچار ہوا۔ موجودہ پی سی بی انتظامیہ کا دعویٰ ہے کہ پی ایس ایل 2020 کے تمام میچز کی پاکستان میں میزبانی اور ایک دہائی کے بعد پاکستان میں ٹیسٹ کرکٹ دوبارہ شروع کرانا ان کی بڑی کامیابیاں ہیں تاہم یہ بڑی کامیابیاں نظر نہیں آتی ہیں کیونکہ احسان مانی کے اقتدار میں آنے سے قبل ماضی میں شہریار خان اور نجم سیٹھی کی سربراہی میں پی سی بی نے کینیا، زمبابوے، ورلڈ الیون، سری لنکا اور ویسٹ انڈیز کی میزبانی کر کے پاکستان میں محدود اوورز کی انٹرنیشنل کرکٹ بحال کردی تھی۔نجم سیٹھی کے دور میں پاکستان میں پاکستان سپر لیگ کے دوسرے ایڈیشن اور تیسرے ایڈیشن کے کچھ میچز پاکستان میں کھیلے گئے تھے۔