پائلٹس کے جعلی لائسنس پر وزیر ہوا بازی غلام سرور کا دعویٰ غلط ثابت


وزیرہوا بازی غلام سرور کے پائلٹس کے جعلی لائسنس کے بیان نے پی آئی اے کو نقصان پہنچایا مختلف ممالک نے پابندیاں بھی لگائیں لیکن غلام سرور کا دعویٰ غلط ثابت ہوگیا، 262 میں سے 180 پائلٹس کلیئر قرار دے دیئے گئے، لیکن وزیرہوا بازی نے اپنی غلطی نہ مانی۔

پروگرام آج شاہ زیب خانزادہ کے ساتھ گفتگو کرتے ہوئے وفاقی وزیر ایوی ایشن اپنے موقف پر قائم رہے، کہا کہ میرے بیان اور اقدام کو سراہا جانا چاہئے کہ کسی نے تو معاملہ اٹھایا، اگر سات سو باسٹھ لوگ پی آئی اے میں جعلی ڈگری پر کام کررہے تو ہم ایکشن نہ لیں، پائلٹس کیخلاف ایکشن نہ لیں؟َمیں اپنے بیان پر آج بھی قائم ہوں۔

جعلی یا مشکوک لائسنس کے الزام کے تحت حکومت نے قومی ایئرلائنز کے 141 پائلٹس سمیت 262 پائلٹس کی لسٹ جاری کی تھی،مشکوک لائسنس والے پاکستانی پائلٹس کا معاملہ سامنے آنے کے بعد 30 جون کو یورپی ایوی ایشن سیفٹی ایجنسی نے پی آئی اے کی یورپین ممالک کے لیے فضائی آپریشن کے اجازت نامے کو 6 ماہ کیلئے معطل کیا تھا۔

غلام سرور کے بیان کی وجہ سے پی آئی اے پر مسلسل 6 ماہ سے یورپی سفر کیلئے پابندی عائد ہے،وزیر اعظم نے تسلیم کیا کہ معاملے کو مس ہینڈل کیا گیا اور اٹارنی جنرل نے بھی عدالت میں غلطی تسلیم کی،اسلام آباد ہائیکورٹ نے کہا کہ غلام سرور خان کا بیان لاپرواہی پر مبنی تھا مگر غلام سرور خان غلطی ماننے کو تیار نہیں۔

ای اے ایس اے کی جانب سے پابندی کے بعد برطانیہ نے بھی پی آئی اے کی پروازوں کی آمد پرپابندی عائد کردی تھی جب کہ ویت نام کی ایوی ایشن اتھارٹی نے بھی مشتبہ لائسنس کی اطلاعات کے بعد تمام پاکستانی پائلٹس گراؤنڈ کردیے تھے،

ملائیشیا نے بھی پاکستانی پائلٹس کو عارضی طور پر معطل کردیا تھا،متحدہ عرب امارات کی سول ایوی ایشن اتھارٹی نے ایمریٹس ایئرلائنز میں کام کرنے والے پاکستانی پائلٹس اور فلائٹ آپریشن افسران کے مشکوک لائسنس کی جانچ پڑتال کے لیے پاکستانی حکام کو خط لکھا تھا۔