پاکستانیوں کے لیے بیرونِ ملک سے رقوم بھیجنے کا متبادل نظام متعارف


بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کی سہولت کو مدنظر رکھتے ہوئے حکومت کی جانب سے رقوم بینکوں اور ایکسچینج کمپنیوں کے علاوہ بھیجنے کا نظام بھی متعارف کرا دیا گیا ہے۔
پاکستان بیورو آف امیگریشن حکام کے مطابق روشن ڈیجیٹل بینک اکاؤنٹس کی سہولت متعارف کرانے کے بعد بیرون ملک جانے کے خواہش مند افراد کے پروٹیکٹوریٹ دفاتر میں بینک اکاؤنٹ کی تفصیلات جمع کرانا لازمی قرار دیا گیا تھا۔ تاہم کچھ شہریوں کو بینک اکاؤنٹس کھولنے میں مشکلات کا سامنا تھا۔
اس صورت حال کو مدِنظر رکھتے ہوئے روایتی بینکاری کے ساتھ ساتھ برانچ لیس بینکنگ اور اس طرح کی دیگر ایپس کے ساتھ مل کر یہ ممکن بنایا گیا ہے کہ اب بیرون ملک مقیم پاکستانی ان کے ذریعے بھی رقوم اپنے گھروں کو بھیج سکیں گے۔
اس طرح اب جو پاکستانی بیرون ملک جانا چاہتے ہیں اور ان کے پاس کوئی اور بینک اکاؤنٹ نہیں ہے تو وہ اس کی جگہ موبی کیش، ایزی پیسہ، ایم والٹ، یو پیسہ، جاز کیش، یو بی ایل اومنی، پے میکس، اومنی، ایچ بی ایل ایکسپریس اور میزان یوپیسہ کے اپنے برانچ لیس اکاؤنٹس کی تفصیلات بھی دے سکتے ہیں۔
بیورو کے مطابق بیرون ملک مقیم پاکستانی بھی ان ایپس تک رسائی حاصل کرکے رقوم پاکستان بھیج سکیں گے۔
وزارت سمندر پار پاکستانیز کے حکام نے اردو نیوز کو بتایا کہ پاکستان ریمی ٹینسز انیشیٹیو کے تحت یہ اقدامات بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کی سہولت اور ان کی جانب سے ترسیلات زر کے حالیہ اضافے کے تسلسل کو برقرار رکھنے کے لیے اٹھایا گیا ہے۔
یاد رہے کہ نومبر کے دوران بیرون ملک پاکستانیوں کی جانب سے دو ارب 34 کروڑ ڈالر سے زائد کی رقم پاکستان بھجوائی گئی۔ سٹیٹ بینک آف پاکستان کے مطابق اس طرح یہ چھٹا مسلسل مہینہ ہے جب ترسیلات زر کا حجم دو ارب سے زائد رہا ہے۔
نومبر 2020 کی ترسیلات زر، نومبر 2019 کے مقابلے میں 28 فیصد زائد ہیں۔ رواں مالی سال کے ابتدائی پانچ ماہ کے دوران ترسیلات زر میں 27 فیصد اضافہ ہوا ہے۔ ان کا حجم 11 ارب 77 کروڑ ڈالر رہا۔
پاکستان کی حکومت بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کی جانب سے بھیجی گئی ترسیلات زر کو اپنے اوپر اعتماد قرار دے رہی ہے۔ وزیراعظم عمران خان ہر ماہ ترسیلات زر سے متعلق ٹویٹ کرکے بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کا شکریہ ادا کرتے ہیں۔
جمعے کو اپنی ٹویٹ میں وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ ’نومبر میں بھی ترسیلات زر میں اضافہ جاری رہا ہے، پاکستان کی معیشت کے لیے مزید اچھی خبریں آرہی ہیں۔‘