پاکستان افغانستان کے لیے اپنی بساط سے بڑھ کے کر رہا ہے: وزیر خارجہ


اسلام آباد: وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کا کہنا ہے کہ افغانستان کے لیے پاکستان اپنی بساط سے بڑھ کر کر رہا ہے، او آئی سی اجلاس افغانستان کی بقا کے لیے بہت اہم ہے۔

تفصیلات کے مطابق اسلام آباد میں ہونے والے اسلامی تعاون تنطیم (او آئی سی) اجلاس میں وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ غیر معمولی اجلاس کے لیے پاکستان پر او آئی سی کا اعتماد خوش آئند ہے۔

وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ نصف افغان آبادی خوراک کی کمی کا شکار ہے، افغانستان کی صورتحال کی ذمے دار بہت سی چیزیں ہیں، سنہ 1980 کے بعد پاکستان میں او آئی سی اجلاس پھر ہو رہا ہے۔ افغانستان میں جاری بحران پر او آئی سی افغان عوام کے ساتھ کھڑی ہے۔

انہوں نے کہا کہ عالمی برادری تمام مسائل سے بالاتر ہو کر افغان عوام کی مدد کے لیے آگے بڑھے، اگست کے بعد افغانستان کی صورتحال بدل گئی ہے، او آئی سی اجلاس افغانستان کی بقا کے لیے بہت اہم ہے۔

وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ افغانستان میں حقائق کو نظر انداز نہیں کر سکتے، افغانستان میں معاشی بحران کے باعث حالات ابتر ہیں، معاشی بحران سے نمٹنے کے لیے بینکنگ نظام کو فعال کرنا ہوگا، مزید معاشی بحران افغانستان میں صورتحال خراب کر سکتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ افغانستان کے لیے پاکستان اپنی بساط سے بڑھ کر کر رہا ہے، انسانی ہمدردی کی بنیاد پر افغانستان کی 3 کروڑ ڈالر کی امداد کی، اجلاس کے ذریعے افغان عوام کو پیغام دیتے ہیں کہ ہم متحد اور ان کے ساتھ ہیں۔

وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ افغانستان میں تعلیم اور دیگر شعبوں میں سرمایہ کاری اور اقوام متحدہ پر منجمد اثاثوں کی بحالی پر زور دیا جائے، افغان عوام کی سلامتی کو یقینی بنایا جائے۔