پاکستان معاشی پابندیوں سے بچ گیا، امریکی صدارتی استثنیٰ مل گیا


پاکستان مبینہ طور پر مذہبی آزادی کی خلاف ورزی کرنے والے ممالک میں شامل ہونے کے بعد معاشی پابندیوں کا شکارہونے سےبچ گیا ہے۔

تفصیلات کے مطابق 2 دن پہلے امریکہ کے سیکرٹری اسٹیٹ مائیک پومپیو نے پاکستان سمیت 9 مختلف ممالک کو سال 2019-20 کے دوران مبینہ طور پر مذہبی آزادی کی خلاف ورزی کرنے والے ممالک کی فہرست میں ڈال دیا تھا۔
اس فہرست میں ڈالے جانے پر پاکستان سمیت تمام 9 ممالک کو معاشی پابندیوں کا سامنا کرنا پڑسکتا تھا تاہم پاکستان کو ان پابندیوں سے بچنے کیلئے امریکی صدارتی استثنیٰ مل گیا ہے۔

یہ اعلان امریکہ کے ایمبیسیڈرایٹ لارج برائے مذہبی آزادی سیموئل ڈی براؤن کی جانب سے ایک پریس کانفرنس میں کیا گیا جس میں انہوں نے کہا کہ اس فہرست میں شامل چند ممالک کو معاشی پابندیوں سے استثنیٰ دے رہے ہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ امریکہ کے قومی مفادات کی وجہ سے پاکستان، سعودی عرب، تاجکستان، ترکمانستان اور نائیجریا کو معاشی پابندیوں سے استثنیٰ دے رہے ہیں۔

واضح رہے کہ امریکی کمیشن برائے مذہبی آزادی کی جانب سے یہ فہرست جاری کی گئی جس میں پاکستان سمیت 9 ممالک کو مذہبی آزادی کی خلاف ورزی والے ممالک قرار دیا گیا تھا، پاکستان نے اس اقدام کو من مانا اور محدود جائزہ قرار دیتے ہوئے مسترد کردیا تھا، پاکستان نے موقف اپنایا کہ یہ اقدام زمینی حقائق کے برعکس ہے، اور فہرست میں کسی ملک کو شامل کیے جانے کا طریقہ کار سنگین قسم کے شکوک و شبہات کا شکار ہے۔


دلچسپ بات یہ ہے کہ کمیشن برائے مذہبی آزادی نے جن ممالک کو اس فہرست میں شامل کرنے کی تجویز دی گئی تھی اس میں بھارت بھی شامل تھا، مگر پیر کے روز جاری ہونے والی فہرست میں بھارت کا نام شامل نہیں کیا گیا۔