پاکستان میں سگریٹ کی بلیک میں فروخت، قومی خزانے کو اربوں روپے کا نقصان

0
37

خبر رساں ادارے کی رپورٹ کے مطابق پاکستان ٹوبیکو کمپنی (پی ٹی سی) کے نمائندے نے کہا کہ مالی سال 2019۔20 کے دوران سگریٹ کی بلیک مارکیٹ میں فروخت سے پاکستان سے 77.33 ارب روپے کی ٹیکس چوری ہوئی ہے۔

پی ٹی سی کے نمائندے کے مطابق مارچ 2020 میں پاکستان میں غیر قانونی سگریٹ کی مجموعی کھپت 37.6 فیصد تھی جس میں صرف ایک سال پہلے کے مقابلے میں 31.5 فیصد اضافہ ہوا ہے، سندھ کے اندر موجود ذرائع نے دعوی کیا ہے کہ سگریٹ بنانے والی متعدد ڈومیسٹک کمپنیاں ٹیکس دینے سے گریز کرتی ہیں، انہوں نے مزید کہا کہ لگ بھگ 10 برانڈز افغان راہداری تجارت کے ذریعے اسمگلنگ میں ملوث ہیں۔

خبر رساں ذرائع نے بتایا کہ پاکستان میں افراط زر کی شرح میں اضافے کی وجہ سے ، صارفین کی اخراجات کی طاقت میں کمی واقع ہوئی ہے ، اور توقع کی جارہی ہے کہ صارفین کا رجحان نان کسٹم پیڈ سگریٹ کی طرف ہو جائے گا ، جس کا حکومتی محصول پر منفی اثر پڑے گا۔

پی ٹی سی کے ایک نمائندے نے کہا کہ اگرچہ حکومت ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم متعارف کروانے کا ارادہ رکھتی ہے، لیکن اس کی کامیابی کا انحصار بورڈ کے نفاذ کے ساتھ ساتھ ریٹیل سطح پر جانچ پڑتال کے نفاذ پر ہے ، انہوں نے کہا کہ نان ٹیکس سگریٹ کی فروخت کو کم کرنے کے لئے ٹیکس پیڈ سگریٹ کے پیک کی قیمت میں کمی کرنے کی ضرورت ہے۔

دوسری جانب ایف بی آر کی ٹیکس پالیسی کے ممبر چودھری محمد طارق کا تمباکو ٹیکسیشن سے متعلق ڈائیلاگ کے دوران کہنا تھا کہ ہمارے تخمینے سے پتہ چلتا ہے کہ ناجائز سگریٹ کا حصہ 16 سے 18 فیصد تک ہے جس سے ہماری محصولات کو 24 ارب روپے کا نقصان پہنچا ہے۔