پاکستان میں لڑکیوں کی منشیات استعمال کرنے کی شرح لڑکوں سے زیادہ

0
45

وفاقی وزیر اینٹی نارکوٹکس سینیٹر اعظم سواتی نے بتایا کہ پاکستان میں لڑکوں کی نسبت منشیات کی عادی اور استعمال کرنے والی لڑکیوں کی تعداد زیادہ ہے، انہوں نے بتایا کہ منشیات کے استعمال کے لحاظ سے کراچی خطرناک ترین شہر بن چکا ہے۔

اعظم سواتی کا کہنا تھا کہ کراچی کے تعلیمی اداروں میں سب سے زیادہ منشیات کا استعمال کیا جاتا ہے۔ 30 سال سے کم عمر 65 فیصد طلبا منشیات استعمال کرتے ہیں اس لیے حکومت اب نئی ڈرگ پالیسی لا رہی ہے۔

وفاقی وزیر نے بتایا کہ منشیات کی عادی لڑکیوں کی زیادہ تر تعداد کا تعلق یونیورسٹیز میں زیر تعلیم طالبات سے ہے۔ تعلیمی اداروں میں آئس اور سینتھٹک کا استعمال زیادہ ہو رہا ہے۔

انہوں نے یہ بھی بتایا کہ یونیورسٹیوں میں کھانے کی ٹافیاں اور تقریباً ہر چیز میں منشیات استعمال کی جا رہی ہیں۔ اس لیے تعلیمی اداروں میں اس ناسور کو پھیلنے سے روکنے کے لیے حکومت اقدامات کر رہی ہے اسی کے تحت ڈرگ پالیسی متعارف کرانے جا رہے ہیں۔


وفاقی وزیر سینیٹر اعظم سواتی نے میڈیا سے غیر رسمی گفتگو کے دوران یہ بھی بتایا کہ پاکستان میں 90 فیصد منشیات براستہ افغانستان آ رہی ہیں اس لیے اس بارڈر پر قابو پانا ناگزیر ہو چکا ہے وگرنہ حالات اور یہ شرح خطرناک حد تک بڑھ سکتی ہے۔