پاکستان میں مساوی نظام انصاف تک رسائی نہیں ہے:یواین ڈی پی کے رپورٹ پر صدیق جان کے انکشاف


اقوام متحدہ کے ادارے یواین ڈی پی کی پاکستان کےنظام انصاف کے حوالے سے رپورٹ جاری کردی گئی،پاکستان نیشنل ہیومن ڈیولپمنٹ رپورٹ میں بتایا گیا کہ پاکستان میں عدم مساوات عروج پر ہے، پاکستان کی عدلیہ کا جھکاؤ طاقتور اور امیروں کی جانب ہے، مساوی نظام انصاف تک رسائی نہیں ہے،کم آمدن والے اور غربت کی لکیر کے نیچے کمانے والے افراد کی بھی انصاف تک رسائی نہیں ہے یہ چیز ملک میں عدم مساوات کا بڑا ذریعہ ہے۔


صدیق جان نے کہا کہ ایسا ہم روز دیکھتے ہیں جو پیسے والا ہے وہ کروڑوں وکیل کو دیتا ہے،غریب کی طرف سے کم پیسے لینے والا وکیل پیش ہوتا ہے،یا وکیل پیش ہی نہیں ہوتا فیس لینے کے بعد بھی جس سے غریب کو سمجھ نہیں آتا وہ وکیل کیخلاف کس پلیٹ فارم پر جائے،یا وکیل نے ایک پارٹی سے پیسے لئے،دوسری سے بھی لئے اور ان کے حق میں ہوگیا۔

صدیق جان نے کہا کہ اگر وکیل تگڑا ہو پارٹی تگڑی ہو تو کیس بھرپورانداز میں پیش کیا جاتا ہے،پچاس ساٹھ فیصد کیسز اس لئے ہار جاتے کیونکہ ان کی تیاری نہیں ہوتی،وہ عدالت کو بتا نہیں پاتا انہیں خود نہیں پتا ہوتا وہ کیا کرنا چاہتے ہیں کیونکہ تیاری نہیں ہوتی، ایسا سپریم کورٹ لیول پر ہوتا ہے۔

صدیق جان نے یو این ڈی پی کی رپورٹ میں پاکستان کے نظام انصاف کی حقیقت پر تبصرہ کرتے ہوئے بتایا کہ رپورٹ میں انصاف تک رسائی کیلئے لاگت، لیگل ایڈ کا فقدان،بہت زیادہ زیرالتو کیسز شامل ہیں،دوہزار اٹھارہ کے بعد لاہور ہائیکورٹ میں کوئی نیا جج نہیں لگایا گیا، کیونکہ چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ اور چیف جسٹس سپریم کورٹ کے درمیان اختلاف تھا،دونوں اپنی مرضی کے جج لانا چاہتے تھے، لاہور ہائیکورٹ کی اکیس سے بائیس نشستیں خالی ہیں، جہاں لاکھوں کیسز بھی التوا کا شکار ہیں۔

صدیق جان نے بتایا کہ ایک سال پہلے ایک سوبیس احتساب عدالتیں بنانے کا حکم دیا گیا، جس پر حکومت نے کہا تیس بنائیں گے اور اب تک ان تیس پر حکومت کام نہیں شروع کرسکی،ملک میں انصاف کی یہ صورتحال ہے جبکہ نچلی عدالتوں کابھی کوئی تصور نہیں ہے، کبھی ایسا نہیں دیکھا کہ کسی جج کو نکال دیا گیا ہو جس کے پانچ سات فیصلے غلط ثابت ہوں، کوئی ایسا فورم نہیں جہاں جاکر شواہد پیش کئے جاسکیں کہ یہاں پیسہ چل رہاہے،یا التوا کا شکار کیسز کی وجہ سے ججوں کوبرطرف کیا گیا ہو، کونکہ عدالتیں حکومت کے ماتحت نہیں ہیں۔

رپورٹ میں امرا کو دی جانے والی مراعات کا بھی ذکر کیا گیا، جس کے مطابق دوہزار اٹھارہ انیس میں ملک کے ایک فیصد امیر ترین افراد ملکی آمدن کے9 فیصد کے مالک تھے، اب امیر ترین20 فیصد پاکستانی قومی آمدن کے49 اعشاریہ 60 فیصد کے مالک ہیں جب کہ غریب ترین 20 فیصد قومی آمدن میں محض 7 فیصد کے مالک ہیں۔ صدیق جان نے رپورٹ کے حوالے سے بتایا کہ سب سے زیادہ فائدے کارپوریٹ سیکٹر نے اٹھائے ہیں،جس میں ان کے شیئرز ہولڈر اور بزنس مین شامل ہیں،ٹیکس نظام میں امرا کو بڑی مراعات دی جاتی ہیں، ٹیکس دیئے جاتے ہیں،ٹیکس چوری کرتے ہیں انہیں کچھ نہیں کہا جاتا ہے،غریب پس جاتا ہے۔