پاکستان میں موبائل فون کی درآمد میں حیران کن حد تک اضافہ ریکارڈ

ڈی آئی آر بی ایس کے نفاذ سے موبائل فون کی درآمد میں حیران کن حد تک اضافہ ریکارڈ

پی ٹی اے کی جانب سے ڈیوائس آئی ڈینٹٹی فکیشن رجسٹریشن اینڈ بلاکنگ سسٹم (ڈی آ ئی آر بی ایس) کے نفاذ کے بعد سال 2018 میں موبائل ڈیوائسز کی درآمد 17.2 ملین سے سال 2019 میں 63 فیصد اضافے کے بعد 28.02 ملین ہوگئی، جبکہ سال 2020 میں اب تک 32.83 ملین ڈیوائسز پاکستان میں درآمد کی جا چکی ہیں۔

ڈی آئی آر بی ایس کے ذریعے اب تک ایسی ایک لاکھ 75 ہزار ڈیوائسز بلاک کی گئی ہیں جن کی آئی ایم ای آئی چوری شدہ تھیں۔ اس کے علاوہ اس نظام کی بدولت 24.3 ملین (2 کروڑ 43 لاکھ) جعلی موبائل ڈیوائسز جبکہ 6 لاکھ 57 ہزار سے زائد ڈپلیکیٹ شدہ آئی ایم ای آئی کی نشاندہی کے بعد بلاک کی گئیں ہیں۔

اس نظام کی بدولت مقامی سطح پر موبائل ڈایوائسز کی تیاری کیلئے 29 مراکز قائم کئے گئے ہیں، جن کی بدولت 2019 سے اب تک 2 کروڑ سے زیادہ ڈیوائسز پاکستان میں ہی تیار کی گئیں، جن میں 15 لاکھ فور جی اسمارٹ فونز بھی شامل ہیں۔

ڈی آئی آر بی ایس کے ذریعے فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) نے جنوری 2019 سے نومبر 2020 کے دوران درآمدات پر مجموعی طور پر 90 ارب روپے کسٹم ڈیوٹی جمع کی۔ یہ 2018 میں جمع کردہ 22 ارب روپے سے 68 ارب روپے زائد ہے یعنی اس شرح میں 309 فیصد اضافہ ہوا۔