پاکستان میں نئی صنعتوں کے قیام اور برآمدات کے حوالے سے نیا سال کیسا ہوگا؟


نئی صنعتوں کے قیام اور موجودہ میں توسیع کے باعث 2021 برآمدات میں اضافے کا سال ہوگا، اینکر پرسن کامران خان

پاکستانی میں صنعتی ترقی کے لحاظ سے نئی صنعتوں کا قیام اور موجودہ صنعتوں میں توسیع کے لحاظ سے 2021 شاندار سال ہو گا۔ اس کی بنیادی وجہ شرح سود میں کمی اور دوسری جانب اسٹیٹ بینک کی جانب سے ٹیرف نامی پرکشش سکیم متعارف کرائی گئی ہے۔

سینئر صحافی اور اینکر پرسن کامران خان نے اس حوالے سے بتایا کہ اس سکیم کے تحت صنعتکاروں کو بہت ہی کم شرح سود پر قرضے فراہم کیے گئے ہیں۔ جس کے ساتھ نئی صنعتوں کے قیام اور پرانی صنعتوں کی توسیع میں مدد ملے گی۔

کامران خان نے اسٹیٹ بینک کی جانب سے متعارف کرئی گئی نئی سکیم ٹی ای آر ایف (Temporary economic refinance facility) کی معلومات بتاتے ہوئے کہا کہ اس سکیم کو بہت سراہا جا رہا ہے۔ دوسری جانب جاری ایل ٹی ایف ایف کی سکیم ہے جس کے تحت نئی صنعت کے قیام اور مشینری کی خریداری کے لیے قرضہ مل رہا ہے۔

کامران خان نے کہا کہ ان اسکیموں کے نتائج دیکھ کر لگتا ہے کہ آئندہ سال بہت ہی حوصلہ افزا سال ہو گا جس میں برآمدات بڑھیں گی کیونکہ ٹی ای آر ایف اسکیم کے تحت اب تک 500 صنعتکار اب تک 500 ارب سے زائد کے قرضے کے لیے درخواستیں دے چکے ہیں۔ جن میں سے 250 ارب روپے کے 300 کے قریب پراجیکٹ منظور بھی کیے جا چکے ہیں۔

کامران خان نے بتایا کہ ان میں ٹیکسٹائل، کنسٹرکشن، آٹو انڈسٹری اور فارما سے جڑے ہوئے منصوبے شامل ہیں۔ صنعتکار اربوں روپے کی مشینری کی خریداری کر رہے ہیں، دوسری جانب لانگ ٹرم فائنانسنگ فیسلٹی سے بھی صنعتکار فائدہ اٹھا رہے ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ نومبر 2020 میں نجی شعبے کے قرضوں کا حجم 6 ہزار 235 ارب تک پہنچ گیا ہے۔ جس کی وجہ سے صنعتی علاقوں میں موجود انڈسٹریل پلاٹس کی قیمتیں کئی گنا بڑھ چکی ہیں۔ کیونکہ صنعتکار نئی صنعتیں لگانے کے لیے پلاٹ ڈھونڈ رہے ہیں۔