پاکستان میں پسندیدہ پھل آم کی پیداوار شدید متاثر ، ڈیتھ سنڈروم کا حملہ


آم کو پھلوں کا بادشاہ کہا جاتا ہے، آج کل بادشاہ یہ خطرے سے دوچار ہے، پاکستان اس موسم گرما میں آم کی صحت مند فصل نہیں اٹھاسکے گا،کیونکہ سندھ کے آم کے باغات ایک متعدی اور مہلک طاعون کا شکار ہیں،سندھ کے آموں کو ڈیتھ سنڈروم کاسامنا ہے جن سے فصلوں کو شدید نقصان پہنچ رہاہے،بیماری نے صوبے بھر میں تشویش کی لہر دوڑادی ہے۔

میرپورخاص کے قریب ٹنڈو جان محمد میں باغ کے مالک میر ظفر اللہ تالپور کے مطابق یہ بیماری آم کے درختوں شدید متاثر کرتی ہے، بیماری کی وجہ سے پتے اور پھول اچانک بھورے ہوجاتے ہیں،مرجھا جاتے ہیں،مرجاتے ہیں اور زمین پر گرتے ہیں۔ اس دوران پودے کی ٹہنیوں کا رنگ سیاہ ہوجاتا ہے،باقی درخت کو بچانے کے لئے ہمیں متاثرہ ٹہنی کو کاٹنا پڑتا ہے۔

تالپور نے بتایا کہ یہ پہلی بار ہوا ہے کہ 60 ایکڑ سے زیادہ اراضی پر محیط باغ اس حد تک متاثر ہوا ہے،ان کے مطابق یہ عجیب و غریب بیماری موسمیاتی تبدیلی کا نتیجہ ہے اور آم کے درختوں میں پھیلنے والی اس بیماری کا کوئی علاج نہیں ہے۔

ماہرین اسے اچانک موت کی بیماری قرار دیتے ہیں کیونکہ اچانک ظاہر ہوتا ہے اور اس بیماری سے درختوں کو چھڑانے کے لئے کوئی اسپرے بھی موجود نہیں ہے۔ متاثرہ ٹہنیوں اور شاخوں کو کاٹنے کے علاوہ اور کوئی چارہ نہیں ہے۔


ماہرین نےباغ کے مالکان اور رکھوالوں کو زیادہ محتاط رہنے کی تاکید کردی ہے، کیونکہ آم کی موت کا یہ سنڈروم ایک کھیت سے دوسرے کھیت میں آسانی سے منتقل ہوسکتا ہے اور آم کی دوسری فصلوں کو تباہ کرسکتا ہے۔

ماہرین کے مطابق آم کی فصل پکنے سے دو ماہ قبل ہی اس بیماری نے سندھ کے آم کے تیس فیصد باغات کو متاثر کردیا ہے،میرپورخاص ، سانگھڑ ، حیدرآباد ، ٹنڈو جام اور ٹنڈو الہ یار سمیت نچلے سندھ میں آم پیدا کرنے والے سر فہرست علاقوں میں شامل ہیں اور یہاں کے آموں کے باغات اچانک موت کے سنڈروم سے متاثر ہوچکے ہیں۔

میرپورخاص سے تعلق رکھنے والے محمد عمر بوگیو 100 ایکڑ اراضی پر صرف برآمدی معیار کی سندری آم کی کاشت کرتے ہیں ،اس بیماری سے پریشان ہیں،انہوں نے کہا کہ میری فصل کا تقریبا 20 سے 25 فیصد حصہ متاثر ہوچکا ہے۔


انہوں نے متعلقہ حکام کی بے حسی پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اگرچہ کاشتکاروں کو ہر سال اسی طرح کے مسائل کا سامنا کرنا پڑتا ہے، لیکن اس سال اس بیماری کا پھیلاؤ زیادہ سنگین ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ کسی نے بھی تحقیق کرنے اور اس کا علاج کرنے کی زحمت نہیں کی،رواں سال فروری میں غیرمعمولی طور پر گرم موسم نے اس بیماری کی وجہ بنا ہے،ہم نے فروری میں کبھی بھی درجہ حرارت 35 سے 40 ڈگری تک بڑھتے ہوئے نہیں دیکھا، مجھے یقین ہے کہ گرم موسم نے آم کے پھول کو بری طرح متاثر کیا ، جسے سندھی میں بور کہتے ہیں،پانی کی قلت اس بیماری کی ایک اور ممکنہ وجہ ہے،اگر یہ سلسلہ اسی طرح جاری رہا تو سندھ میں آم کی پیداوار میں کمی آئے گی۔