پاکستان چھوڑ کر امریکہ شفٹ ہونیوالے قومی کرکٹر سمیع اسلم اپنے ساتھ ناروا سلوک پر پھٹ پڑے، شکایتوں کے انبار لگا دئیے

نیویارک (این این آئی)پاکستان کرکٹ بورڈ کی سلیکشن پالیسی سے ناراض ہو کر امریکا شفٹ ہونے والے سمیع اسلم نے کہا ہے کہ امریکا منتقلی کی افواہیں گزشتہ 3 سے 4 ماہ سے سوشل میڈیا پر چل رہی تھیں تاہم اس کے باوجود پی سی بی کی طرف سے ان سے رابطہ نہیں کیا گیا۔ایک انٹرویو میں انہوں نے کہا کہ وہ رواں سال مارچ سے امریکی کرکٹ بورڈ کے ساتھ بات چیت کررہے تھے تاہم اس دوران پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) نے کبھی ان سے رابطہ نہیں کیا۔24 سالہ نوجوان نے یوٹیوب پر ایک ویب شو میں

گفتگو کرتے ہوئے انکشاف کیا کہ دورہ انگلینڈ اور نیوزی لینڈ کے لئے منتخب نہ ہونے پر انہیں بہتر مواقع دیکھتے ہوئے امریکا منتقل ہونے کا فیصلہ کیا۔سمیع اسلم نے کہا کہ وہ مارچ سے ہی امریکی کرکٹ بورڈ کے ساتھ رابطے میں تھے تاہم تب وہاں منتقل ہونے کا نہیں سوچھا تھا کیونکہ تب انہیں انگلینڈ کے دورے کے لیے منتخب ہونے کی امید تھی۔ انہوںنے کہاکہ جب انہیں نیوزی لینڈ کے دورے کے لیے بھی منتخب نہیں کیا گیا تو وہ سخت مایوس ہوگئے کیونکہ ان کی فٹنس اور فارم بھی اچھی تھی۔سمیع اسلم نے اس بات پر زور دیا کہ امریکا کو دیگر کرکٹ کھیلنے والی قوموں کے مقابلے میں منتخب کرنے کی سب سے بڑی وجہ یہ ہے کہ وہ اب بھی ان کے کرکٹ بورڈ سے وابستہ رہے گا جب تک کہ وہان کی نمائندگی کے اہل نہ ہوجائیں۔ انہوںنے کہاکہ وہ ایک مناسب معاہدے کے بعد یہاں آئے ہیں جب تک 3 سال بعد امریکی کرکٹ ٹیم کی نمائندگی کے اہل نہیں ہوجاتے، امریکی کوچ ان کی فارم اور فٹنس پر نظر رکھیں گے، امریکا میں کرکٹ کا میعار بہترین اور سہولیات شاندار ہیں۔خیال رہے کہ سمیع اسلم نے 2014 کے انڈر 19 ورلڈ کپ میں پاکستان ٹیم کی قیادت کی تھی، سمیع اسلم 2012 کے انڈر 19 ورلڈ کپ میں بابر اعظم کی قیادت میں کھیل چکے ہیں۔