پاکستان کا نیا سیاسی نقشہ شنگھائی تعاون تنظیم نے پاکستان کی حمایت کردی بھارتی اعتراض مسترد، اجیت دوول منہ تکتے رہ گئے

0
66


پاکستان کا نیا سیاسی نقشہ شنگھائی تعاون تنظیم نے پاکستان کی حمایت کردی بھارتی اعتراض مسترد، اجیت دوول منہ تکتے رہ گئے


اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک، این این آئی ) شنگھائی تعاون تنظیم کے سکیورٹی ایڈوائزرزاجلاس میں اجیت دوول کا پاکستان کے سیاسی نقشے پر اعتراض مسترد کردیا گیا ۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق شنگھائی تعاون تنظیم کے رکن ممالک کے سکیورٹی ایڈوائزرز کا آن لائن اجلاس ہوا۔جس میں پاکستان کی نمائندگی وزیراعظم عمران خان کے سکیورٹی ایڈوائزر معید یوسف نے کی ، معید یوسف نے ویڈیو لنک اجلاس کے دوران پس منظر میں نیا نقشہ لگایا ہوا تھا جس پر بھارتی مشیرقومی سلامتی اجیت دوول کی طرف سے پاکستان کے سیاسی نقشے پر اعتراض کیا گیا تاہم اس موقع پر شنگھائی تعاون

تنظیم کے رکن ممالک نے کشمیر سے متعلق پاکستانی موقف کی تائید کردی ۔دریں اثنا معاون خصوصی برائے قومی سلامتی ڈاکٹر معید یوسف نے ایس سی او کی قومی سلامتی کونسل سکریٹریوں کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ معاشی راہداری حکومت کی اولین ترجیح ہے، ہم علاقائی اقتصادی اور تجارتی ترقی کے خواہاں ہیں۔معاون خصوصی ڈاکٹر معید یوسف نے کہاکہ پرامن اور مستحکم افغانستان خطے میں تجارتی روابط کے لیے ناگزیر ہیں۔ ڈاکٹر معید یوسف نے کہاکہ بین الافغان امن مذاکرات کا آغاز خوش آئند ہے، پاکستان طویل عرصے سے کہتا رہا کہ افغانستان مسلے کا فوجی حل نہیں۔ انہوںنے کہاکہ افغانستان کا مستقبل مذاکرات میں ہے، افغان اسٹیک ہولڈرز اس تاریخی موقع سے فائدہ اٹھائیں۔ڈاکٹر معید یوسف نے کہاکہ افغان کو مل کر جامع اور پائیدار سیاسی حل تلاش کرنا چاہیے۔ معید یوسف کے مطابق پاکستان افغانستان میں امن کے لیے سہولت کار کا کردار ادا کرتا رہے گا ، افغانستان کے مستقبل بارے میں فیصلہ کرنے کا صرف افغان کو حق ہے۔معاون خصوصی ڈاکٹر معید یوسفنے کہاکہ کسی بھی بیرونی ملک کو افغانستان میں امن کا ضامن تصور نہیں کیا جا سکتا۔ انہوں نے کہاکہ پاکستان نے افغانستان میں امن اور مفاہمت کیلئے سب سے زیادہ تعمیری کردار ادا کیا، پی ٹی آی حکومت کا ویڑن معاشی راہداری روابط کے فروغ ہے، پاکستان خطے میں امن کی خواہش رکھتا ہے۔معاون خصوصی ڈاکٹر معید یوسف نے کہاکہ پاکستان پرامن مذاکرات کے ذریعے تنازعات کے حل کا خواہاں ہے، اقوام متحدہ کی قراردادوں کی خلاف ورزی، یکطرفہ اور غیر قانونی اقدامات مذاکرات میں رکاوٹ ہیں۔معید یوسف نے کہاکہ اقوام متحدہ کی قراردادوں کی خلاف ورزی کرنے والےممالک کی مذمت کی جانی چاہیے ۔ڈاکٹر معید یوسف نے کہاکہ عالمی برادری کو مقبوضہ علاقوں میں ریاستی دہشت گردی کے مرتکب ممالک کی مذمت کرنی چاہیے ، ہمیں قوم پرستی، فاشزم اور مذہبی انتہاپسندی کے خلاف متحد ہونا ہے۔معاون خصوصی ڈاکٹر معید یوسف نے کہاکہ اسلامو فوبیاکے بڑھتے رجحان پر توجہ دینے کی ضرورت ہے، پاکستان شنگھائی کواپریشن آرگنائزیشن میں اپنا مثبت کردار ادا کرتا رہے گا۔ڈاکٹر معید یوسف نے کہاکہ پی ٹی آئی حکومت اور ایس سی او کے امن، ترقی، استحکام اور معاشی روابط اور استحکام اہداف میں ہم آہنگی ہے، دنیا کے تمام ممالککے ساتھ دوستانہ تعلقات ہماری ترجیح ہے۔معید یوسف نے کہاکہ ہم علاقائی ممالک کے ساتھ امن کے خواہاں ہیں، ہم معاشی راہداری اور روابط کے ذریعے علاقائی تعاون کو مستحکم کرنا چاہتے ہیں۔ انہوںنے کہاکہ شنگھائی تعاون تنظیم رکن ممالک کے مابین رابطے اور تعاون مربوط کرنے کا پلیٹ فارم ہے۔

LEAVE A REPLY