پاکستان کا چینی سرحد سے فاصلہ کرنے کیلئے سی پیک کے متبادل راستے پر غور،کتنا راستہ کم ہو گا؟


پاکستان اور چین کے درمیان سی پیک کا منصوبہ ترقی کی راہ پرگامزن ہے، اس منصوبے کے حوالے سے اہم پیشرفت سامنے آگئی ،سی پیک کے تحت چین کو ملانے والے ایک اور بڑے راستے کا فاصلہ کم کرنے پر غور کیا جارہاہے، نیا راستہ خنجراب پاس کے راستے موجودہ راستوں سے تقریبا 350 کلومیٹر کم ہوگا،نیا راستہ چین کی یارکند کی سرحد عبور کرنے کے بعد گلگت بلتستان کے شگر ، اسکردو اور استور اضلاع کو مظفرآباد سے جوڑ دے گا۔

دستاویزات کے مطابق گلگت بلتستان کے محکمہ ورکس کو آٹھ جنوری کو ایک مراسلہ کے ذریعےسی پیک کے نئے روٹ کے لئے تصور کلیئرنس پروپوزل تیار کرنے کے لئے کہا گیا تھا، جو گلگت بلتستان کے شگر ، اسکردو اور استور اضلاع سے گزرے گا اور آزاد جموں و کشمیر کے مظفرآباد ضلع سے ملائے گا۔

ان اضلاع کے متعلقہ محکموں سے کہا گیا ہے کہ وہ یارکند سے استور میں گوری کوٹ کے راستے شغرتھنگ ، اسکردو کے راستے” 33 فٹ چوڑی ٹرک ایبل روڈ کی تعمیر کے لئے پروپوزل جلد جمع کروائیں،وفاقی وزیر مواصلات مراد سعید کے ساتھ گلگت بلتستان کے وزیر معظم کاظم کے درمیان ملاقات ہوئی، مراد سعید بھی متبادل راستے کی منظوری پر پر امید ہیں ،جسے پی ٹی آئی حکومت کا ایک تاریخی اقدام کہا جارہا ہے۔

متعلقہ سی پی ای سی فورمز کے ذریعے کلیئرنس پروپوزل کی منظوری کے بعد حکومت اس سال کے آخر تک میگا پروجیکٹ پر کام شروع کردے گی،وفاقی وزیر مراد سعید کے مطابق یارکند سے اسکردو کے راستے شگر تک کا راستہ چین اور بلتستان خطے کے مابین ایک قدیم تجارتی راستہ تھا،انہوں نے واضح کیا کہ پہلے سے موجود راستے کی بحالی سے علاقے کی معاشی سرگرمیوں میں انقلاب آئے گا۔

اس سے قبل ایک چینی وفد نے گلگت بلتستان کے شگر اور اسکردو اضلاع کا دورہ کیا تھا جہاں مقامی لوگوں اور سیاسی نمائندوں نے انہیں بلتستان ریجن اور چین کے یارکند کے مابین تاریخی تجارتی راہ کے بارے میں آگاہ کیا تھا۔

حکام کے مطابق یہ نیا روٹ پاکستان اور چین کے مابین موجودہ زمینی راستے سے تقریبا تین سو پچاس کلومیٹر کم ہوگا،انہوں نے مزید کہا کہ یہ راستہ مغربی چین کے جنوب مشرقی مغربی یغور خودمختار علاقہ سنکیانگ کے ایک نخلستانی شہر یارکند کی سرحد عبور کرنے کے بعد آزاد جموں و کشمیر کے مظفر آباد کو چھونے سے پہلے گلگت بلتستان کے شگر ، اسکردو اور استور اضلاع کو جوڑتا ہے، یہ راستہ زیادہ محفوظ ہے۔