پستول واپس کیوں نہ کیا؟ سب انسپکٹر کی بیوہ پر لاکھوں روپے جرمانہ


لاہور : محکمہ پولیس نے اپنے مرحوم سب انسپکٹر کومرنے کے بعد بھی نہ بخشا، ریوالور واپس نہ ملنے پر اس کی بیوہ پر جرمانہ عائد کردیا, بیوہ نے عدالت میں درخواست دائر کردی۔

لاہور ہاٸی کورٹ کے جسٹس شاہد کریم نے مرحوم سب انسپکٹر کی بیوہ زیبا کی جرمانہ کے خلاف درخواست پر سماعت کی، عدالت نے پرانے ریوالور کی اصل قیمت کے تعین کا حکم دے دیا۔

عدالت نے قرار دیا کہ یہ کیسے ہوسکتا ہے کہ پرانے ریوالور کی بجائے موجودہ ماڈل کی قیمت وصول کی جائے، اسلحہ کی قیمت کے تعین کا کوئی تو فارمولا ہونا چاہئیے۔

اندازوں سے قیمت کا تعین کیسے کیا جاسکتا ہے، عدالت نے استفسار کیا کہ وفات پانے والے شخص سے رقم کی ریکوری کس قانون کے تحت کی جاسکتی ہے۔

سرکاری وکیل نے بتایا کہ پینشن رولز کے تحت سرکاری اسلحہ واپس نہ کرنے والے ریٹائرڈ ملازم سے وصولی ہو سکتی ہے، اگر سرکاری ملازم مر جائے تو اس کے ورثاء قیمت کی ادائیگی کے پابند ہیں۔

مرحوم سب انسپکٹر رمضان کی بیوہ زیبا نے مؤقف اختیار کیا کہ سب انسپکٹر2008 میں دوران ڈیوٹی فوت ہوا۔ ورثاء کو صرف میت ملی ریوالور نہیں۔

محکمے نے یکطرفہ انکوائری کےبعد 2لاکھ بیس ہزار روپے جرمانہ عائد کردیا، درخواست گزار نے بتایا کہ 38 بور امریکن ریوالور اب پولیس کےاستعمال میں بھی نہیں ہے، عدالت بلاجواز جرمانے کو کالعدم قرار دے۔