پٹرول بحران تحقیقاتی رپورٹ وزیراعظم کو پیش،اوگرا کو تحلیل کرنے کی سفارش


ملک بھر میں پٹرول کی مہنگی داموں فروخت اور بحران پر رواں سال جون جولائی میں پٹرول کی مصنوعی قلت پیدا ہوگئی تھی۔ جس کے بعد وزیراعظم عمران خان کی ہدایت پر تحقیقاتی کمیٹی قائم کی گئی اس تحقیقاتی کمیشن نے اپنا کام مکمل کرکے رپورٹ وزیراعظم کو جمع کرا دی ہے۔

تحقیقاتی کمشین نے رپورٹ میں اوگرا کو پارلیمنٹ کے ذریعے تحلیل (ختم) کرنے اور سیکریٹری پٹرولیم ڈویژن کے خلاف کارروائی کی ہدایت دی ہے۔

تحقیقاتی کمیشن کی تیار کردہ رپورٹ پہلے کابینہ کے اجلاس میں پیش کی جائے گی پھر اسے عوام کے سامنے لایا جائے گا۔ رپورٹ میں ڈی جی آئل ڈاکٹر شفیع آفریدی اور پیٹرولیم ڈویژن کے افسر عمران ابڑو کے خلاف کارروائی کی سفارش کی گئی ہے۔

کمشین نے بتایا ہے کہ پٹرول کی قیمتیں بڑھنے تک کمپنیوں نے تیل ذخیرہ کیا یا سپلائی کم کی، کمپنیوں سے 20 روز تک تیل ذخیرہ نہ کروانا اوگرا کی ناکامی ہے۔ اس کے علاوہ رپورٹ میں قیمتوں کا تعین 15 کے بجائے ماہانہ بنیاد پر کرنے کی سفارش اور پیٹرولیم ڈویژن میں مانیٹرنگ سیل قائم کرنے کی سفارش کی گئی ہے۔

رپورٹ میں واضح کی گیا ہے کہ ڈی جی آئل ڈاکٹر شفیع آفریدی کوٹا مختص کرنے کے عمل میں غیر قانونی طور پر ملوث ہیں اور آئل مارکیٹنگ کمپنیاں ذخیرہ اندوزی میں ملوث رہیں جس کے سبب پاکستان میں پٹرول کا بحران پیدا ہوا۔

ایف آئی اے کی جانب سے وزارت پٹرولیم سے پوچھے گئے سوالات کےجوابات بھی رپورٹ کا حصہ ہیں۔

ان جوابات کے مطابق ویٹرنری ڈاکٹر شفیع آفریدی کو وزارت میں ڈی جی آئل لگا دیا گیا، جن کے پاس آئل سیکٹر میں کام کا کوئی تجربہ نہیں، وہ ریسرچ آفیسر عمران ابڑو کی توسیع کے لیے خلاف ضابطہ سفارش بھی کرتے رہے۔

پٹرولیم ڈویژن کے ذیلی اداروں کے درمیان رابطوں کا فقدان ہے اور متعلقہ اداروں کے درمیان معلومات کے تبادلے کا کوئی میکنزم نہیں۔