پہلی بار ٹیسٹ ٹیم سے ڈراپ ہونے کی وجہ سے پریشان اسد شفیق کم بیک کیلئے بھی پرعزم


لاہور  پاکستان ٹیسٹ کرکٹ ٹیم کے مڈل آرڈر بلے باز اسد شفیق نے ریکارڈ قابل رشک نہ ہونے کی وجہ چھٹے نمبر پر بیٹنگ کو قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ وکٹ کیپر اور ٹیل اینڈرز کے ساتھ کھیل کر بڑے سکور کرنے کا موقع نہیں ملتا، ڈراپ ہونے پر پریشانی تو ہوئی مگر قومی ٹیم میں واپسی کیلئے پرعزم ہوں،محمد یوسف نے ذہنی مضبوطی پر توجہ دینے کی ہدایت کی ہے۔

تفصیلات کے مطابق نجی خبر رساں ادارے سے گفتگو کرتے ہوئے اسد شفیق نے کہا کہ دنیا کے نمایاں کرکٹرز میں چھٹے نمبر پر بیٹنگ کرنے والا کوئی نہیں ہے، میری 70 فیصد اننگز اسی نمبر پر ہیں اور میرا ساتھ دینے کیلئے وکٹ کیپر اور ٹیل اینڈرز ہوتے ہیں جس کے باعث بڑے سکور کرنے کا موقع کم ملتا ہے لیکن اس کے باوجود چھٹے نمبر پر بیٹنگ کرنے والوں میں میرا ریکارڈ بہتر ہے،البتہ یہ بات درست ہے کہ میں اپنی صلاحیتوں کے مطابق کارکردگی نہیں دکھا پایا۔

انہوں نے کہا کہ یونس خان اور مصباح الحق کے بعد اظہر علی کے ساتھ مل کر توقعات کا بوجھ نہیں اٹھا سکا، اب کم بیک کا موقع ملا تو بطور سینئر پلیئر ذمہ دارانہ کردار ادا کرنے کی کوشش کروں گا، پہلی بار قومی ٹیم سے ڈراپ ہونے پر پریشانی تو ہوئی مگر جو ہوتا ہے اچھے کیلئے ہوتا ہے اور میں اسے بڑے مثبت انداز میں ایک چیلنج کے طور پر لیا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ قائد اعظم ٹرافی میں بہت زیادہ غیر معمولی پرفارمنس تو نہیں دکھا سکا، بہرحال بہتری کی جانب گامزن ہوں، کوشش کروں گا کہ بڑے سکور بناﺅں، گزشتہ ڈیڑھ یا2 سال ٹیسٹ کرکٹ میں نصف سنچریز کو سنچری میں تبدیل نہیں کر پایا، اس خامی پر بھی قابو پانے کی کوشش کروں گا۔