پیپلزپارٹی کا بڑا یوٹرن، اپنے اراکین قومی و صوبائی اسمبلی کو استعفے دینے روک دیا

پیپلزپارٹی کا بڑا یوٹرن، اپنے اراکین قومی و صوبائی اسمبلی کو استعفے دینے روک دیا اور میڈیا پر استعفوں پر بات کرنے سے بھی روک دیا

نجی ٹی وی چینل کے مطابق پی ڈی ایم کی ارکان جماعتوں کے استعفوں کے معاملے سے بلاول بھٹو پیچھے ہٹنے لگے۔ پیپلزپارٹی کے ارکان اسمبلی کی جانب سے استعفے سوشل میڈیا پر شیئر کرنے پر پارٹی قیادت نے ناراضگی کا اظہار کیا ہے، انہوں نے اپنی جماعت کے قومی و صوبائی اسمبلی کے اراکین کو استعفے دینے سے روک دیا، چیئرمین پیپلز پارٹی نے ہدایت دی کہ پی پی اراکین فوری استعفے نہ دیں۔

بلاول بھٹو نے یہ بھی ہدایت کی کہ استعفوں پر بات کرنے سے بھی گریز کیا جائے، ٹی وی چینلز پر بھی استعفوں پر بات نہ کی جائے اور نہ ہی استعفے سوشل میڈیا پر شئیر کئے جائیں۔

پارٹی قیادت نے ارکان اسمبلی کو ڈانٹ پلاتے ہوئے کہا کہ کس کے کہنے پر فوری استعفے دے رہے ہیں ،جذباتی نہ ہوں اور اگلے حکم کاانتظار کریں۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ پی ڈی ایم کے ہر فیصلے کے ساتھ ہیں مگر استعفوں کا فیصلہ پارٹی کرے گی۔

پی پی چیئرمین بلاول بھٹو کا کہنا تھا کہ استعفوں کا حتمی فیصلہ سینٹرل ایگزیکٹو کمیٹی (سی ای سی) اجلاس میں کیا جائے گا، بلاول بھٹو نے سینئرپارٹی قیادت کو ہدایت کی ہے کہ استعفوں کے معاملے پر بات کرنے سے گریز کیا جائے کیونکہ استعفیٰ دینا ہے یا نہیں یہ فیصلہ پارٹی کا ہوگا۔

پاکستان ڈیموکریٹ موومنٹ کی مرکزی قیادت کی جانب سے اراکین اسمبلی کو استعفیٰ پارٹی قیادت کے پاس جمع کرانے کی ہدایت کی تھی جس کے بعد بلوچستان میں 3 اراکین اسمبلی نے استعفیٰ دے دیا، استعفیٰ جمع کرانے والوں میں جمعیت علماءاسلام کے رکن صوبائی اسمبلی شام لال لاسی اور بلوچستان نیشنل پارٹی کے رکن صوبائی اسمبلی اختر حسین لانگو شامل ہیں۔

(ن) لیگ کی ربیعہ نصرت، زیب النساء اعوان، طاہر جمیل، عرفان عقیل، چودھری منیب الحق اور دیگر ارکان نے بھی استعفے قیادت کو بھجوا دیئے۔ سینئر پارلیمینٹرین تہمینہ دولتانہ کے صاحبزادے میاں عرفان عقیل بھی مستعفی ہوگئے۔ اوکاڑہ سے سینیر سیاستدان مرحوم چودھری اکرام الحق کے صاحبزادے چودھری منیب الحق بھی مستعفی ہوگئے، مستعفی ارکان اسمبلی کا کہنا ہے کہ اسمبلی سیٹ پارٹی امانت ہے، قیادت پر مکمل اعتماد ہے۔