پیپلز پارٹی اور جمعیت علمائے اسلام ف کے درمیان لاڑکانہ میں اختلاف کیوں ہوا؟ اصل کہانی سامنے آگئی


لاڑکانہ پاکستان پیپلزپارٹی سے اختلافات کی خبروں پر جمعیت علمائے اسلام لاڑکانہ کے امیر علامہ ناصر سومرو کا بیان سامنے آگیا۔علامہ ناصر سومرو کا کہنا ہے کہ جمعیت علمائے اسلام نے کسی افسر کی تقرری کی سفارش نہیں کی، چند روز قبل جے یو آئی لاڑکانہ اور ڈپٹی کمشنر کے درمیان تنازع ہوا تھا اور ڈپٹی کمشنر نے لاڑکانہ سے جے یو آئی کے پینا فلیکس اور پرچم اتروادیے تھے۔

جیو نیوز کے مطابق انہوں نے بتایا کہ پینا فلیکس اتارنے پر جے یو آئی لاڑکانہ نے ڈی سی کی معطلی کا مطالبہ کیا اور لاڑکانہ میں مظاہرے کی بھی کال دی تھی۔علامہ ناصر سومرو کا کہنا تھا کہ احتجاج کی کال پر ڈی سی نے اپنے والد کے ساتھ جے یو آئی دفتر آکر معذرت کی جس کے بعد جے یو آئی لاڑکانہ نے معاملے کو ختم کردیا۔ان کا کہنا ہے کہ چند چینلز اس طرح کی خبریں پھیلاکر پی ڈی ایم کے اتحاد کو کمزور کر رہے، بینظیر بھٹو شہید کی برسی میں جے یو آئی کا اعلیٰ سطح کا وفد شریک ہے اور جے یو آئی کوئی دھرنا نہیں دے رہی اور نا ہی کوئی احتجاج کر رہی۔

خیال رہے کہ پاکستان ڈیمو کریٹک موومنٹ کے سربراہ مولانا فضل الرحمان بینظیر بھٹو کی برسی کے موقع پر جلسہ عام میں شریک نہیں ہوئے بلکہ مولانا عبدالغفور حیدری وفد کے ساتھ شریک ہوئے۔