پی ایس ایل میڈیا رائٹس کیس: عدالت نے تاریخی فیصلہ سنادیا


لاہور: پاکستان سپر لیگ سیزن 7 (پی ایس ایل) کی راہ میں روڑے اٹکانے والوں کو منہ کی کھانی پڑی، لاہور ہائی کورٹ نے تاریخی فیصلہ دے دیا ہے۔

اے آر وائی نیوز کے مطابق لاہور ہائی کورٹ میں پی ایس ایل میڈیا رائٹس سے متعلق درخواستوں کی سماعت ہوئی، جسٹس شاہد وحید نے درخواستوں پر سماعت کی۔

اے آر وائی کی جانب سے اعتزاز احسن بطور وکیل پیش ہوئے جبکہ پی سی بی کی جانب سے تفضل رضوی اور پی ٹی وی کے احمد پنسوتا پیش ہوئے، سماعت کے آغاز پر عدالت نے جیو کے وکیل کو افہام تفہیم سے معاملہ حل کرنے کی پیشکش کی مگر انہوں نے افہام و تفہیم سے انکار کردیا۔

عدالت نے قرار دیا کہ یہ ملکی مفاد کا معاملہ ہے چاہتے ہیں کہ باہمی رضامندی سے معاملہ ہوجائے، ہم نے پورا کیس دیکھا ہے اس معاملے پر پیپرا رولز کا نفاذ نہیں ہوتا۔

تاہم عدالت میں جیو کے وکیل نے کہا کہ معاہدے پر پیپرا رولز لاگو ہوتے ہیں، عدالت نے قرار دیا کہ اگر پیپرا رولز پروکیورمنٹ پر لاگو ہوتے ہیں تو آپ بتائیں اس معاہدے میں کیا خرید و فروخت ہوئی؟۔

اس موقع پر اے آر وائی کے وکیل اعتزاز احسن نے دلائل دیئے کہ جیو نے جوائنٹ وینچر میں کوئی دلچسپی ظاہر نہیں کی، لہذا اب ان کا حق ہی نہیں کہ وہ درخواست دائر کرسکیں ۔اے آر وائی کے وکیل کا کہنا تھا کہ ای او آئی میں حصہ لینے کے بعد بلٹس کمپنی چار ماہ تک سوئی رہی، جب ہائی کورٹ نے بڈنگ کے خلاف جیو کی درخواست مسترد کی تو بلٹس کمپنی نے کیس دائر کر دیا، جیو کہتا ہے کھیلیں گے نہ کھیلنے دیں گے، اے آر وائی کے وکیل نے استفسار کیا کہ کیا اس نے چاند پر ہونے والے ایونٹ میں شرکت کرنے میں دلچسپی ظاہر کرنا تھی؟

اعتزاز احسن نے کہا جیو اپنی شرائط پر معاہدہ کرنا چاہتا تھا اگر اس کو معاہدہ مل جاتا تو سب ٹھیک اے آر وائی کو ملا تو غیر قانونی ہوگیا، اگر جیو کو بڈ مل جاتی تو قومی خزانے کو ساٹھ کروڑ کا نقصان ہوتا۔

اے آر وائی کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ اے اسپورٹس ایچ ڈی، اے آر وائی جیسے تجربہ کار ادارےکا حصہ ہے اور اس نے بڈنگ کے لئے تمام قانونی تقاضے پورے کئے۔

وکیل پی ٹی وی نے اپنے دلائل میں کہا کہ بلٹس نے غلط بیانی کی کہ 18 دسمبر کو پی ٹی وی ، اے آر وائی معاہدے کا علم ہوا، ہم نے 8 ستمبر کو بلٹز کو بورڈ کی میٹنگ کا فیصلہ بھجوا دیاتھا، جان بوجھ کر درخواستیں دیر سےدائر کی گئیں جو بدنیتی پر مبنی ہیں، ان درخواستوں سے پی ایس ایل کو نقصان پہنچا جبکہ جیو نے ایک ایک گھنٹہ اس کیس پر مس رپورٹنگ کی۔

سرکاری ٹی وی کے وکیل نے کہا کہ یہ تاثر دیا گیا جیسے عدالت کا اسٹے ہے جس سے سرمایہ کاری متاثر ہوئی، پیپرا رولز اس معاہدے پر لاگو نہیں ہوتے، یہ پبلک پرائیوٹ پارٹنر شپ معاہدہ تھا جس میں قواعد وضوابط کوپورا کیا گیا۔

احمد پنسوتا نے عدالت کو بتایا کہ ایک پٹیشن میں جوائنٹ وینچر اور دوسری میں رائٹس کی بڈنگ کو چیلنج کیاگیا، ہم نے عدالت کو پی ایس ایل رائٹس پر مطمئن کیا، ذاتی رنجش پر پی ایس ایل رائٹس کو چیلنج کرنا نقصان دہ ہے، پی ایس ایل کو نقصان پہنچتا ہے تو پاکستان کو نقصان ہوگا۔

پی سی بی کے وکیل تفصل رضوی نے انٹرنیشنل اور ڈومیسٹک ایونٹس کے حوالے سے رپورٹ جمع کراتے ہوئے بتایا کہ پی ایس ایل پی سی بی کا ڈومیسٹک ایونٹ ہے، عدالت نے وکلا کے دلائل سننے کے بعد جیو اور بلٹس کی درخواستیں مسترد کردیں۔

لاہور ہائی کورٹ کی جانب سے پی ایس ایل میڈیا رائٹس سے متعلق درخواستوں پرجیو اور بلٹس کمپنی کی درخواستیں مسترد ہونے کے بعد سرکاری ٹی وی کے وکیل احمد پنسوتا کا کہنا تھا کہ اللہ کے فضل سے کیس کا فیصلہ ہمارے حق میں آیا، الحمدللہ! پی ایس ایل 7 اپنے مقررہ وقت پر ہوگا۔