پی سی بی نے یونس خان کوبڑا عہدہ سونپ دیا


لاہور/کراچی(این این آئی)پاکستان کرکٹ بورڈ نے سابق کپتان یونس خان کو بیٹنگ کوچ مقرر کردیا ہے۔ یونس خان کی تقرری کم از کم آئی سی سی ٹی ٹونٹی ورلڈ کپ 2022 تک کے لیے کی گئی ہے،اکتوبر/ نومبر 2022 میں آسٹریلیا میں شیڈول ایونٹ کا فائنل 13 نومبر کو کھیلا جائے گا۔اس سے قبل یونس خان نے دورہ انگلینڈ میں بھی قومی کرکٹ ٹیم کے بیٹنگ کوچ کی حیثیت سے ذمہ داریاں ادا کیں تھیں۔سابق کپتان اب دورہ نیوزی لینڈ میں بھی یہی کردار نبھائیں گے۔پاکستان کرکٹ ٹیم 23 نومبر کو نیوزی لینڈ کے لیے روانہ ہوگی۔ جب قومی کرکٹ

ٹیم کے ساتھ مصروفیت نہیں ہوگی تو یونس خان حنیف محمد ہائی پرفارمنس سنٹر کراچی میں بیٹنگ کوچ کی حیثیت سے کام کریں گے۔ اس سلسلے میں نیشنل ہائی پرفارمنس سنٹر ایک مکمل پروگرام تشکیل دے گا۔ یونس خان نے 118 ٹیسٹ میچز میں 10099 جبکہ 265 ایک روزہ انٹر نیشنل میچز میں 7249 اور 25 ٹی ٹونٹی انٹر نیشنل میچز میں 442 رنز اسکور کئے۔ انہوں نے پاکستان کی جانب سے سب سے زیادہ 34 ٹیسٹ سنچریاں بنائیں۔ ان کا بہترین اسکور 2009 میں کراچی میں سری لنکا کے خلاف 313 رنزتھا۔ یونس خان آئی سی سی مینز ٹی ٹونٹی ورلڈ کپ 2009 کی فاتح پاکستان کرکٹ ٹیم کے کپتان بھی تھے ،ایونٹ کے فائنل میں پاکستان نے سری لنکا کو ہرا کر ٹائٹل اپنےنام کیا تھا۔پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیف ایگزیکٹو وسیم خان نے کہا انہیں خوشی ہے کہ یونس خان اب کم از کم آئندہ دو برس تک بیٹنگ کوچ کی حیثیت سے ہمارے ساتھ کام کریں گے ، اگرچہ وہ انگلینڈ میں مختصر وقت کے لئے ٹیم کے ساتھ رہے تاہم اس دوران ہمیں ان کےبارے میں جو فیڈ بیک ملا وہ شاندار تھا۔وسیم خان نے کہا کہ ان کے کام کرنے کے اصول ،عزائم اور کھیل کے بارے میں علم کسی سے کم نہیں، پر امید ہوں کہ ان کی تقرری سے باصلاحیت بلے بازوں کو بہت فائد ہ ہوگا۔ چیف ایگزیکٹو نے کہا کہ پی سی بی اپنی اس حکمت عملیپر کاربند ہے جس کے تحت نامور کرکٹرز اور کوالیفائیڈ کوچز کی ملک کے بڑے سنٹرز پر تقرری ہوگی ، لہٰذا ہم اس وقت بھی یونس خان کے تجربے اور مہارت سے فائدہ اٹھائے گے کہ جب قومی کرکٹ ٹیم کیساتھ ان کی کوئی مصروفیت نہیں ہوگی۔ انہوں نے مزید کہا کہ اسی طرحمحمد یوسف پہلے ہی نیشنل ہائی پرفارمنس سنٹر میں تعینات ہیں، جس کا مطلب یہ ہے کہ پی سی بی کے پاس اب دو بہترین بیٹسیمنوں کی خدمات موجود ہیں ، جو ہمارے بیٹسمینوں کے مستقبل کے لیے بہت مفید ثابت ہوگا۔ یونس خان کا کہنا ہے کہ وہ ایک طویل مدت کے لیے پاکستان کرکٹکے سیٹ اپ میں شمولیت پر خوش ہیں ، دورہ انگلینڈ میں قومی کرکٹ ٹیم کے ساتھ کام سیوہ بہت لطف اندوز ہوئے تھے۔ انہوں نے کہا کہ وہ اب نیوزی لینڈ کے اہم دورے پر انہی لوگوں کے ساتھ دوبارہ کام کرنے کے منتظر ہیں، اور خوش ہیں کہ ان کے کام کے دائرہ کار کو وسیع کردیا گیا ہے۔ سابق کپتان نے کہا کہ وہ ڈومیسٹک سطح پر کام کرنے میں بھی دلچسپی رکھتے ہیں تاکہ بلے بازوں کی صلاحیتوں میں نکھار لایا جاسکے۔مداحوں سے مخاطب ہوتے ہوئے یونس خان کا کہنا تھا کہ ایک منظم اور جامع عمل سے گزرنے کے بعدہی کامیابی حاصلکی جاتی ہے تاہم چند مقامات پر بہتری کے آثار بہت جلد نظر آنا شروع ہوجاتے ہیں، لہٰذا ہمیں مطلوبہ نتائج کے حصول کے لیے بہت محنت اور تحمل کی ضرورت ہے۔درِیں اثنا پی سی بی نے سابق ٹیسٹ اسپنر ارشد خان کو قومی خواتین کرکٹ ٹیم کابولنگ کوچ مقرر کردیا ہے۔ارشد خان نے 9 ٹیسٹ اور 58 ایک روزہ انٹر نیشنل میچز میں بالترتیب 32 اور 56 وکٹیں حاصل کیں۔ وہ ایچ بی ایل پی ایس ایل 2020 کے باقی ماندہ چار میچز کے بعد اپنی نئی ذمہ داریاں سنبھال لیں گے۔ پی سی بی اس سے قبل ڈیوڈ ہیمپ کوبھی قومی خواتین کرکٹ ٹیم کا ہیڈ کوچ مقررکرچکا ہے۔ ڈیوڈ ہیمپ برمودا اور گلیمورگن کرکٹ ٹیموں کے سابق کپتان رہ چکے ہیں۔ ارشد خان کے مطابق ڈیوڈ ہیمپ کے ہمراہ قومی خواتین کرکٹ ٹیم کے ساتھ کام کرنا ایک شاندارتجربہ ہوگا،اس دوران قومی خواتین کرکٹ ٹیم کی رینکنگ میں بہتری لانا ہمارا مقصد ہوگا۔انہوں نے کہا کہ وہ نیشنل ویمنز ٹی ٹونٹی چمپئن شپ کے دوران خواتین کھلاڑیوں کے ساتھ کام کرنے کے منتظر ہیں ، اس دوران وہ ڈیوڈ ہیمپ کے ساتھ مل کر ایسی حکمت عملی بنائیں گے کہ جس سے قومی خواتین کرکٹ ٹیم ترقی حاصل کرے۔قومی کرکٹ ٹیم کا اسپورٹ اسٹاف میںمنصور رانا (منیجر) ، مصباح الحق (ہیڈ کوچ) ، شاہد اسلم (اسسٹنٹ کوچ) ، وقار یونس (باؤلنگ کوچ) ، یونس خان (بیٹنگ کوچ) ، عبد المجید (فیلڈنگ کوچ) ، کلف ڈیکن (فزیوتھیراپسٹ) ، ابراہیم بادیس (ٹیم اینڈ سوشل میڈیا منیجر)، ملنگ علی (ٹیم مساجر) ، ڈاکٹر سہیل سلیم (ٹیم ڈاکٹر)، طلحہ اعجاز بٹ (ٹیم اینالسٹ) ، کرنل (ر) عثمان انوری (سیکیورٹی منیجر) اور یاسر ملک (اسٹرینتھ اینڈ کنڈیشنگ کوچ) شامل ہیں جبکہ پاکستان شاہینز میں اعجاز احمد (منیجر اور ہیڈ کوچ) ، مہتشم راشد (اسسٹنٹ منیجر اینڈ فیلڈنگ کوچ) ، راؤ افتخار (بولنگ کوچ) ، حافظ نعیم (فزیوتھیراپسٹ) ، صبور احمد (ٹرینر) ، عثمان ہاشمی (ٹیم اینالسٹ) اور محمد عمران علی ( ٹیم مساجر) شامل ہیں ۔