پی ڈی ایم میں استعفوں کے معاملے پر اختلافات

پی ڈی ایم میں استعفوں کے معاملے پر اختلافات بڑھ گئے۔

سابق وزیراعظم نواز شریف نے اپوزیشن اتحاد کے سربراہ مولانا فضل الرحمٰن کے پاس استعفیٰ جمع کرانےکی تجویز دے دی ۔ پی ڈی ایم میں شامل جماعتوں کی اکثریت نے نوازشریف کی اس تجویز کی حمایت کی۔

جس پر پیپلزپارٹی نے مولانا فضل الرحمان اور دیگر جماعتوں کو صرف استعفوں کا نام لینے کا مشورہ دیا۔ پیپلزپارٹی نے موقف اپنایا کہ اراکین اسمبلی کے استعفے اپنے پاس رکھ لئے جائیں لیکن جمع نہ کرائے جائیں۔

پیپلزپارٹی کا موقف تھا کہ استعفوں کے باوجود بات کہیں اور چلی گئی تو اپوزیشن کئی سال پیچھے چلی جائے گی۔

ذرائع کے مطابق پیپلزپارٹی نے سندھ اسمبلی نہ چھوڑنے کا فیصلہ کیا ہے۔ پیپلزپارٹی کا موقف ہے کہ تمام اسمبلیوں سے مستعفی ہونے کے بعد سندھ اسمبلی سے استعفے دئیے جائیں۔

تجزیہ کاروں کے مطابق پیپلزپارٹی گیم کھیل رہی ہے۔ اگر پی ڈی ایم کی تجویز پر سندھ اسمبلی توڑدے گی توسینٹ الیکشن کیسے لڑے گی؟ اس طرح تحریک انصاف اور سندھ کی اپوزیشن جماعتوں کیلئے میدان صاف ہوجائے گا اور وہ اپنے سینٹر اپنے مینڈیٹ سے بڑھ کر آسانی سے متنخب کرالے گی اور پی پی والے ہاتھ ملتے رہ جائیں گے

اسمبلیوں سے استعفے مولانا فضل الرحمان کے پاس جمع کرانے کی تجویز کو سوشل میڈیا صارفین نے ڈرامے بازی قرار دیدیا اور کہا جو شخص اسمبلی کا ممبر نہیں وہ اسکے پاس استعفے کیسے جمع ہوسکتے ہیں؟

پیپلزپارٹی کی رہنما شہلا رضا نے اپنے ٹوئٹر پیغام میں کہا کہ مارچ کے بعد استعفے اسپیکر کو جمع کروائیں گے تمام جماعتیں استعفے مولانا فضل الرحمان کے پاس جمع کروائیں گی وہ جب مناسب سمجھیں گے اسپیکر کو استعفے جمع کروائیں گے

دوسری طرف لاہور اور سرگودھا سے مسلم لیگ (ن) کے 5 ارکان قومی اسمبلی نے ایڈوانس میں استعفے پارتی قیادت کو بھجوادیے ہیں۔

اس معاملے پر سابق وزیراعظم کی صاحبزادی مریم نواز کہہ چکی ہیں کہ عمران خان کی حکومت کے پاؤں اکھڑ چکے ہیں، لاہور میں جلسہ بھی ہوگا اور حکومت گھر بھی جائے گی۔