پی ڈی ایم کی جانب سے مذاکرات کے لیے اختیارات کس کے پاس ہوں گے؟


خبر رساں ذرائع کے مطابق پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ کا نیشنل ڈائیلاگ کے لیے جاتی امرا میں سربراہی اجلاس ہوا، جس میں پی ڈی ایم میں شامل تمام جماعتوں نے گرینڈ مذاکرات کے لیے اختیارات واضح کر دیے، جب کہ اجلاس میں پی ڈی ایم میں شامل جماعتوں کے درمیان پائے جانے والے اختلافات بھی کھل کر سامنے آگئے۔

خبر ذرائع کے مطابق پی ڈی ایم کے سربراہ اجلاس کے بعد ن لیگ کے ذرائع کا بتانا تھا کہ مذاکرات کا اختیار صرف نواز شریف، شہباز شریف یا مریم نواز کے پاس ہوگا جبکہ دیگر لیگی قیادت کے پاس گرینڈ مذاکرات کا اختیار نہیں ہوگا، ن لیگ کی طرح پیپلز پارٹی میں بھی مذاکرات کا اختیار آصف علی زرداری اور بلاول بھٹو کے پاس ہے ہی ہو گا۔

جاتی امرا رائیونڈ میں ہونے والے سربراہی اجلاس میں اپوزیشن جماعتوں کے درمیان پائے جانے والے اختلافات بھی منظر عام پر آ گئے ہیں، اجلاس میں پی ڈی ایم کے سربراہ فضل الرحمن کا کہنا تھا کہ تمام اسمبلیوں کے اراکین کو اپنے استعفے اپنی قیادت کو دے دینے چاہیئں جس کی نواز شریف نے بھی حمایت کی لیکن آصف علی زرداری اور بلاول بھٹو نے مولانا فضل الرحمن کی رائے سے اختلاف کیا۔

خبر رساں ادارے کا اپنے دعوے میں کہنا ہے کہ اجلاس کے دوران پاکستان پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری نے موقف اپنایا کی سینیٹ اور ضمنی انتخابات میں بھرپور حصہ لیا جائے جبکہ نواز شریف نے سینیٹ میں حصہ لینے کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ سینٹ انتخابات میں حصہ لیا جائے ضمنی میں نہیں جب کہ مولانا فضل الرحمن نے کہاں کے دونوں انتخابات میں حصہ نہ لیا جائے جب کہ فوری طور پر اسمبلیوں سے استعفے دے دیے جائیں۔