چینی قونصل جنرل کا کہنا ہے کہ تھر پاکستان کو تبدیل کرے گا اور پاکستان پوری دنیا کو تبدیل کر دے گا


ناظرین تھر کو پاکستان کا پسماندہ ترین علاقہ سمجھا جاتا ہے مگر یہ علاقہ قدرتی وسائل سے مالا مال ہے جس میں کوئلے کی کانیں سرفہرست ہیں۔

چند دن پہلے تھر میں ایک میلےکا اہتمام کیا گیا جو کہ ضلعی انتظامیہ سندھ اینگرو کول مائننگ کمپنی  ، تھر فاؤنڈیشن ، شنگھائی الیکٹرک اور متعدد دیگر تنظیموں کے اشتراک سے کیا گیا ۔

میلے کے پہلے دن کراچی میں چینی قونصل جنرل لی بیجیان نے ایک بڑے اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ تھر میں سرمایہ کاری کی بڑی صلاحیت ہے۔ انہوں نے کہا کہ تھر پاکستان کو تبدیل کرے گا اور پاکستان اپنے بھرپور قدرتی وسائل اور محنتی اور پر امن لوگوں کی وجہ سے پوری دنیا کو ضرور تبدیل کر دے گا۔

انہوں نے کہا ، “چین پاکستان اقتصادی راہداری منصوبوں کے تحت ہم نے کامیابی کے ساتھ پہلے مرحلے کو مکمل کرلیا ہے اور اب ہم دوسرے مرحلے میں داخل ہو رہے ہیں۔”

ساتھ ساتھ اُن کا یہ بھی کہنا تھا تھر میں کان کنی اور بجلی کے منصوبوں نے مقامی لوگوں کے لئے ہزاروں ملازمتیں پیدا کیں۔ “تھر ایک خوبصورت جگہ ہے اور اس میں ہر شعبے میں سرمایہ کاری کی زبردست صلاحیت موجود ہے۔ تاہم تھر کو مزید خوبصورت اور ترقی یافتہ بنانے کے لئے مل کر کام کرنا ہو گا ۔

اُن کا مزید کہنا تھا کہ پاکستان اور چین کے مابین ہمیشہ دوستی کا مضبوط رشتہ رہا ہے جس کو سی پیک کے منصوبوں نے مزید مضبوط کیا ہے۔ چین خوشحال ، مضبوط اور مستحکم پاکستان چاہتا تھا۔

توانائی کے اس ذرائع سے کوئلے کے ذخائر اور بجلی کی پیداوار تھر کے لوگوں کی تقدیر بدل دے گی۔

ناظرین اب دیکھنا یہ ہے کہ صحرا کا یہ خطہ کس طرح خوشحال ہو گا اور مستقبل میں پاکستان کی تقدیر کو کیسے بدلے گا۔