ڈسکہ ضمنی الیکشن: الیکشن کمیشن کے بڑے فیصلے پر وزیر اعظم عمران اور مریم نواز نے کیا ردعمل دیا؟


ڈسکہ میں ہونے والے انتخابات میں دھاندلی کی شکایات کے بعد معاملہ الیکشن کمیشن میں چلا گیا تھا۔ اب الیکشن کمیشن نے اس کا فیصلہ سنا دیا ہے۔

سماعت کے دوران مسلم لیگ ن کے وکیل سلمان اکرم راجہ نے الیکشن کمیشن کو بتایا کہ دھاندلی منظم انداز سے کرائی گئی ہے اور یہ صرف 20 پولنگ اسٹیشنز پر نہیں ہوئی۔ جن پولنگ اسٹیشنز پر ن لیگ کا پلڑا بھاری تھا وہاں پولنگ روک دی گئی۔

دوسری جانب پی ٹی آئی کے وکیل بیرسٹر علی ظفر نے اپنے دلائل میں کہا کہ دیہی اور شہری حلقوں میں ہمیشہ ٹرن آؤٹ مختلف رہتا ہے۔ اسے دھاندلی کی دلیل قرار نہیں دیا جا سکتا۔پی ٹی آئی کے وکیل کا کہنا تھا کہ متنازعہ پولنگ اسٹیشنز کا فرانزک آڈٹ کرایا جائے۔

مگر الیکشن کمیشن نے بیرسٹر علی ظفر کے دلائل مسترد کرتے ہوئے قومی اسمبلی کے حلقے این اے 75 کے ضمنی انتخابات کو کالعدم قرار دے دیا۔ ای سی پی نے حکم دیا کہ 18 مارچ کو اس پورے حلقے میں الیکشن کرایا جائے۔ یہ فیصلہ چیف الیکشن کمشنز سکندر سلطان کی جانب سے سنایا گیا۔

فیصلے میں الیکشن کمیشن نے کہا کہ پولنگ کے دن کے دوران حلقے میں خوشگوار ماحول نہیں تھا۔ فائرنگ کے واقعات ہوئے جس میں قیمتی جانیں ضائع ہوئیں اور خوف وہراس پھیلا جس کی وجہ سے نتائج مشکوک ہیں۔ اس لیے ڈسکہ ضمنی انتخابات 18 مارچ دوبارہ کرائے جائیں۔

حکومت کی جانب سے ردعمل دیتے ہوئے وزیراطلاعات شبلی فراز نے کہا کہ اس فیصلے سے ثابت ہو گیا ہے کہ پی ٹی آئی کے دور میں ادارے آزاد ہیں۔ ماضی میں ایسا نہیں ہوتا تھا اور اداروں سے من مانے فیصلے کرائے جاتے تھے۔عثمان ڈار نے بھی اس فیصلے کو ویلکم کیا ہے اور اسے 73 سالہ تاریخ کا منفرد فیصلہ قرار دیا ہے۔میڈیا اطلاعات کے مطابق وزیراعظم عمران خان نے اس فیصلے کے بعد وفاقی کابینہ کا ہنگامی اجلاس بھی طلب کر لیا ہے۔

دوسری جانب مریم نواز نے اپنے ٹویٹ میں شکر ادا کرتے ہوئے کہا کہ ڈسکہ کے عوام کا حق انکو واپس مل گیا۔ ڈسکہ کے عوام کا شکریہ کہ نا صرف ووٹ دیا بلکہ ووٹ پر پہرا بھی دیا اور ووٹ چوروں کو رنگے ہاتھوں پکڑ کر قانون کے حوالے کر دیا