کراچی میں آسمان سے گرتی چمکدار چیز بالآخر کیا تھی؟


کراچی میں شہاب ثاقب گرنے کے مناظر کے حوالے سے موسمیاتی ماہرین کا وضاحتی بیان سامنے آیا ہے۔

گزشتہ روز ملیر میں شام 7 بج کر 15 منٹ پر شہاب ثاقب کے گرنے کے مناظر ریکارڈ کیے گئے جس کے بعد سے شہاب ثاقب کے گرنے کی ویڈیو سوشل میڈیا پر ہر طرف وائرل نظر آئی۔

ویڈیو میں رہائشی علاقے میں آسمان سے تیزرفتار روشن چمکدار چیز کو گرتے دیکھا گیا تھا۔

تاہم اب اس حوالے سے ماہر موسمیات جواد میمن کا کہنا ہے کہ سندھ کے بہت سے لوگوں نے آسمان پر ایک چمکدار چیز کے ساتھ دھماکے کی آواز سننے کی بھی اطلاع دی۔

تیز رفتار روشنی کی مانند چمکدار چیز کیا تھی؟
جواد میمن کے مطابق بنیادی طور پر شہاب ثاقب کہلانے والی اور آسمان پر نمودار ہونے والی اِن چمکدار چیزوں کو میٹیورائیڈز کہا جاتا ہے جو اکثر زمین کی طرف سفر کرتے ہیں، یہ میٹیورائیڈز کافی چھوٹے ہوتے ہیں اور جب یہ زمین کی کشش ثقل کے میدان میں داخل ہوتے ہیں تو وہ جل کر ایک شوٹنگ ستارہ بن جاتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ چونکہ یہ میٹیورائیڈز خلا سے آرہے ہیں اس لیے ان کے ساتھ مختلف قسم کی گیسز اور کیمیکل ہوتے ہیں، جب وہ زمین کی کشش ثقل کے میدان میں داخل ہوتے ہیں تو گیسوں اور کیمیکلز کی موجودگی انہیں جلا دیتی ہے۔

روشنی کیوں محسوس ہوتی ہے؟
ماہر موسمیات نے بتایا جیسے جیسے یہ میٹیورائیڈز جلتے ہیں، وہ نیلے، سبز، پیلے یا نارنجی سے لے کر رنگ برنگی روشنیاں خارج کرتے ہیں۔

میٹیو رائیڈز سے آبادی کو کوئی خطرہ نہیں ہوتا: جواد میمن
ماہر موسمیات کا کہنا ہے کہ میٹیورائیڈز چونکہ بہت چھوٹے ہوتے ہیں اس لیے وہ ہوا میں رہتے ہوئے ہی جلتے ہیں اور زمین کو نہیں چھوتے، ان سے زمین یا آبادی کو کوئی خطرہ نہیں ہے۔