کراچی میں کتنی خاتون ایم ایل او ہیں؟ چشم کشا انکشاف


کراچی: اے آر وائی نیوز کی خبر پر ایکشن ہوا اور گیارہ گھنٹے سے زائد گزرنے کے بعد ننھی حرمین کا پوسٹ مارٹم شروع ہوگیا ہے۔

تفصیلات کے مطابق اے آر وائی نیوز نے خبر بریک کی تھی کہ تین سالہ حرمین کی لاش 10 گھنٹے سے اسپتال میں ہونے کے باوجود ابھی تک پوسٹ مارٹم نہ کیا جاسکا ہے، خبر آن ایئر ہونے کے بعد جناح اسپتال سے ریسکیو حکام کو فون کیا گیا کہ بچی کی لاش بھجوا دیں ایم ایل او اسپتال پہنچ رہی ہیں۔

اے آر وائی نیوز کی جانب سے خبر نشر کئے جانے پر ایگزیکٹو ڈائریکٹر جے پی ایم سی پروفیسر شاہد رسول نے کہا کہ بہت افسوسناک اور دلخراش واقعہ ہے، کسی اور اسپتال سے بھی ایم ایل او کو بلوایاجاسکتاہے۔

یہ بھی پڑھیں: جناح اسپتال کی لیڈی میڈیکولیگل آفیسرز کی بےحسی، حرمین کا پوسٹ مارٹم نہ ہوسکا

بعد ازاں ایڈیشنل ایم ایل اوسمعیہ سید نے اے آر وائی نیوز سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے کچھ اور کہانی بیان کر ڈالی، ایڈیشنل ایم ایل اوسمعیہ سید نے کہا کہ بچی کا پوسٹ مارٹم کیا جارہا ہے۔

انہوں نے اے آر وائی نیوز سے گفتگو میں چشم کشا انکشاف کیا کہ کراچی میں صرف 5 ویمن ایم ایل او ہیں ، میرے پاس 8،8 گھنٹےکی ڈیوٹی میں دو خاتون میڈیکو لیگل افسر ہوتی ہیں، رات کے لیے تیسری ایم ایل او دستیاب نہیں ہیں، حکام بالا سے تیسری ایم ایل او کےلیے درخواست کر رکھی ہے۔

ایڈیشنل ایم ایل اوسمعیہ سید نے بچی کی لاش کو گھر بھیجنے سے متعلق رپورٹ کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ اہل خانہ سے مشاورت کے بعد میت کو سرد خانےمیں رکھوایا تھا۔

واضح رہے کہ گذشتہ شب کراچی کے علاقے شاہ لطیف ٹاؤن منزل پمپ کے قریب سیکیورٹی گارڈ اور ملزمان میں فائرنگ کا تبادلہ ہوا جس کے نتیجے میں تین سالہ حرمین جاں بحق ہوگئی تھی۔