کراچی کے شہری گاؤں میں رہتے ہیں،نہ سڑکیں، نہ پانی ،پارک ہیں نہ میدان، چیف جسٹسc


سپریم کورٹ آف پاکستان کی کراچی رجسٹری میں آج چیف جسٹس گلزاراحمد کی سربراہی میں اہم کیسز کی سماعت ہوئی، کراچی تجاوزات کیس میں چیف جسٹس پاکستان کی جانب سے ریمارکس دیئے گئے کہ کراچی کے شہری تو گاؤں میں رہتے ہیں، سارا شہر گاؤں میں تبدیل ہو گیا ہے، نہ سڑکیں ہیں نہ پانی ،پارک ہیں نہ میدان کچھ بھی نہیں ہے۔

دوران سماعت چیف جسٹس نے وزیراعلیٰ سندھ کو طلب کیا جس پر مراد علی شاہ ذاتی حیثیت میں عدالت پیش ہوئے ان کے ہمراہ دو صوبائی وزرا ناصر شاہ اور سعید غنی بھی موجود تھے۔

وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے کراچی تجاوزات کیس میں پیش ہو کر کہا کہ چیف جسٹس اور سپریم کورٹ کا شکر گزار ہوں، انہوں نے عدالت کو 5مئی 2019 کے ایک آرڈر سےمتعلق پیشرفت سے آگاہ کیا، قانون کےتحت سندھ حکومت نے کےایم سی کو اختیارات دیئے۔

چیف جسٹس نے کہا کہ زمینی حقائق یہی ہیں کہ کراچی میں کچھ نہیں ہوا، مراد علی شاہ نے بتایا کہ فٹ ہاتھ تک کلیئر کرایا ، سی ایم ہاؤس کے پاس کنٹینرز ہٹا لئے، جس پر چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ وہ تو آپ کی سیکیورٹی کیلئےتھا اس سے ہمارا کیا تعلق؟

مراد علی شاہ نے واضح کیا کہ ہم نے فٹ پاتھوں کوکلیئر کرایا، ہم نے کابینہ کی منظوری سے آپ کے حکم پر عمل درآمد کرایا، میئر کے پاس تجاوزات خاتمے کی ذمہ داری تھی انہوں نے اپنی ذمہ داری پوری نہیں کی۔ چیف جسٹس نے واضح کیا کہ میرے احکامات نہیں عدالت کا حکم تھا۔

چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ کراچی کی بہتری اور اصل شکل میں بحالی کیلئے کیا قدم اٹھایا؟ وزیر اعلیٰ سندھ نے بتایا کہ شہید ملت سے طارق روڈ تک نئی سیوریج لائنز اور یونیورسٹی روڈ تعمیر کیا گیا ہے، پلانٹیشن کررہے ہیں ، سڑکوں کووسعت دے رہے ہیں، اہم شاہراہوں پر کام کیا گیا ہے، کچھ مہلت مل جائے تو عمل درآمد رپورٹ پیش کردیں گے۔ عدالت نے ایک ماہ کی مہلت دے کر وزیراعلیٰ کو جانے کا کی اجازت دے دی۔

چیف جسٹس نے ناصر شاہ کو احاطہ عدالت سے باہر جانے روک دیا اور استفسار کیا کہ ناصر شاہ صاحب سامنے آئیں، آپ کے حوالے سے خبر ہے کہ آپ نے نئی عمارتیں بنانے کی اجازت دی ہے، شہر میں کہاں جگہ ہے جو نئی عمارتیں بنیں گی؟

ناصر شاہ نے جواب دیا کہ غیر قانونی تعمیرات کی اجازت نہیں دیں گے آپ کے حکم کی تعمیل ہوگی، یقین دلاتا ہوں کہ عدالتی حکم کے مطابق کام ہوگا۔