کرک مندر پر افسوسناک حملے کے بعد کتنے ملزم گرفتار ہوئے اور ملوث عناصر کے ساتھ کیا سلوک کیا جائے گا ؟ حکومت نے دبنگ اعلان کردیا


اسلام آباد وزیراعظم کے معاونِ خصوصی برائے بین المذاہب ہم آہنگی و مشرق وسطیٰ علامہ حافظ طاہر محمود اشرفی نے کہا ہے کہ کرک مندر پر حملہ افسوسناک اور قابل مذمت ہے،اقلیتوں کو خوفزدہ کرنے اور اقلیتوں کی عبادتگاہوں پر حملے کرنے والے عناصر کو معاف نہیں کیا جائے گا،مرکزی مجرم سمیت اکتیس افراد گرفتار ہو چکے،ضلعی انتظامیہ علماء و مشائخ اور ہندو برادری سے رابطہ میں ہیں، پاکستان کے علماء و مشائخ کرک میں ہندو مندر پر حملے کی بھرپور مذمت کرتے ہیں ۔

تفصیلات کےمطابق چیئرمین پاکستان علماءکونسل و معاون خصوصی وزیراعظم علامہ حافظ طاہر محمود اشرفی نے کہا کہ پاکستان کا آئین اور قانون اقلیتوں کو مکمل تحفظ فراہم کرتا ہے،کرک میں مندرپرحملہ کرنےوالوں نےاسلامی اورپاکستانی اقدار کونقصان پہنچایا ہے،وزیراعظم عمران خان کی ہدایات کے مطابق ہندو برادری مسلم قائدین اور کرک کی ضلعی انتظامیہ سے رابطہ میں ہوں ،حملہ کے مرکزی مجرموں سمیت اکتیس افراد کو گرفتار کیا گیا ہے،اقلیتوں کو خوفزدہ کرنے والوں کو کسی صورت معاف نہیں کیا جا سکتا، وہ تمام مذاہب و مسالک کے قائدین کے ہمراہ کرک کا دورہ کریں گے ۔

حافظ محمد طاہر محمود اشرفی نے کہا کہ پاکستان میں رہنے والی اقلیتوں کے حقوق کا تحفظ ریاست اور مسلمانوں کی ذمہ داری ہے،حملہ کرنے والوں نے شر اور فساد پھیلانے اور پاکستان کو بدنام کرنے کی کوشش کی ہے ،اسلام امن ، محبت ، رواداری اور اعتدال کا دین ہے،اسلام کا دہشت گردی اور انتہا پسندی سے کوئی تعلق نہیں،غیر مسلموں کو خوفزدہ کرنے والے اسلام کے نمائندہ نہیں ہو سکتے۔انہوں نے کہا کہ اس پر بھی تحقیقات ہوں گی کہ کرک مندر حملےکامقصد ملک میں انتشار پھیلانا اور پاکستان کو بدنام کرنا تھا۔