’کچھ لوگ میرے اور محمد رضوان کے تعلقات خراب کرنا چاہتے ہیں‘ سرفراز احمدپھٹ پڑے


کراچی  قومی ٹیم کے سابق کپتان سرفراز احمد کا غصہ تو ہر کوئی جانتا ہے ،پی ایس ایل کے میچز میں مسلسل شکستوں کے دوران فیلڈ میں بھی بے حد غصے میں نظر آتے تھے جس پر رمیض راجہ نے انہیں مشورہ بھی دیا تھا کہ زیادہ غصہ نہ کیا کریں ۔ابھی گزشتہ روز اینکر پرسن محمد جنید کے ایک ٹوئٹ پر بھی انہوں نے خفگی کا اظہار کیا ۔کرکٹ حلقوں میں وکٹ کیپر بلے باز کی حیثیت سے ان کا محمد رضوان سے موازنہ بھی کیا جا رہا ہے اور بہت سے لوگ دونوں کھلاڑیوں میں سے زیادہ اچھے کھلاڑی کسی ایک کے زیادہ اچھے کھلاڑی ہونے کی رائے بھی پیش کر رہے ہیں ۔

ایسی صورتحال میں سرفراز احمد نے واضح کیا ہے کہ انہیں محمد رضوان سے کوئی مسئلہ نہیں ہے ۔سپورٹس رپورٹ ساجد نے مائیکرو بلاگنگ ویب سائٹ ٹوئٹر پر سرفراز احمد کا بیان شیئر کیا جس میں ان کا کہنا ہے کہ کچھ لوگ بغیر کسی وجہ کے میرے اور محمد رضوان کے تعلقات خراب کرنا چاہتے ہیں ،مجھے محمد رضوان سے کوئی مسئلہ نہیں ۔سرفراز احمد نے مزیدکہا کہ محمد رضوان نے پاکستان کے لیے تینوں فارمیٹ میں اپنی اہلیت کا ثابت کیا ہے ۔

واضح رہے کہ محمد رضوان کے معاملے پر سرفراز احمدن نے محمد حفیظ کے ایک ٹوئٹ پر بھی کرارا جواب دیا تھا ۔حفیظ نے ٹویٹ میں لکھاتھا کہ ’رضوان کو ٹی ٹوئنٹی میں سنچری کرنے پر مبارکباد، تم ایک چمکتا ستارہ ہو لیکن مجھے کئی مرتبہ خیال آتا ہے کہ تمہیں کب تک یہ ثابت کرنا پڑے گا کہ تم پاکستان کے لیے تمام فارمیٹس میں نمبر ون وکٹ کیپر بیٹسمین ہو؟ صرف پوچھ رہا ہوں۔جس کے جواب میں سرفراز نے اپنی ٹویٹ میں لکھاتھا ’محمد حفیظ صاحب پاکستان کے لیے کھیلنے والے سارے ہی وکٹ کیپرز نمبر ون ہیں اور قابلِ احترام بھی۔ چاہے وہ وسیم باری ہوں یا تسلیم عارف، امتیاز احمد ہوں یا سلیم یوسف، راشد لطیف ہوں معین خان ہوں یا کامران اکمل۔ یا آج کل رضوان۔انہوں نے مزید کہاتھا ’ہم سب رضوان کے ساتھ ہیں اور چاہتے ہیں کہ وہ ملک کے لیے زیادہ سے زیادہ بہترین اننگز کھیلیں اور آئندہ بھی پاکستان کے لیے جس کو بھی کھیلنے کا چانس ملے گا وہ نمبر ون ہی ہو گا۔ ہم ایک طویل عرصے تک پاکستان کی نمائندگی کرنے والے انٹرنیشنل کرکٹر سے صرف مثبت رویے کی امید کرتے ہیں۔ جسٹ سیئنگ یعنی صرف کہہ رہا ہوں۔‘اس حوالے سے محمد عامر نے سرفراز احمد کی سپورٹ میں کہا تھا کہ بابو آپ بھی نمبر ون وکٹ کیپر بلے باز ہیں ،جب آپ کپتان تھے تو دو سال تک ٹیم نمبر ون تھی اور سب سے بڑھ کر چیمپین ٹرافی کا فتح ۔آپ پاکستان کا فخر ہیں اور مزے کی بات لوگوں کا کام ہے بولنا اس لیے آپ انجوائے کریں ۔