گریٹر اقبال پارک کو بھاری نقصان، پی ڈی ایم رہنماؤں کو بھاری جرمانے کرنیکا فیصلہ

لاہور جلسے کے نتیجے میں گریٹر اقبال پارک کا 72 لاکھ کا نقصان، انتظامیہ کا تمام اخراجات پی ڈی ایم سے لینے کا فیصلہ

پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ کے 13 دسمبر کو لاہور میں منعقد ہونے والے جلسے کے نتیجے میں گریٹر اقبال پارک کا نقصان ہوا جس کا تخمینہ 72 لاکھ روپے لگایا گیا ہے۔

پی ایچ اے انتظامیہ نے تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ مخلتف سیاسی جماعتوں کے جتھوں نے نہ صرف سرسبزلان خراب کیے بلکہ لوہے کے جنگلے بھی توڑے دیئے۔

پارک کے سیکیورٹی حکام کے مطابق کارکنوں کی جانب سے پھول، پودے مسل دیئے گئے ایک واک تھرو گیٹ، میوزیم کا گیٹ نمبر 4 اور مینار کے 4 دروازے بھی توڑے گئے۔


اس حوالے سے پی ایچ اے نے اخراجات پی ڈی ایم سے لینے کا فیصلہ کر لیا۔ جس ضمن میں پی ایچ اے نے ایف آئی آر درج کرانے کیلئے ڈرافٹ تیار کر لیا۔

اب انتظامیہ نے لینڈ ریونیو ایکٹ 1967 کے تحت کارروائی کا فیصلہ کیا ہے۔گریٹر اقبال پارک میں ہونے والے پی ڈی ایم جلسے پر 2 مقدمات تھانہ لاری اڈا میں درج ہیں.

مقدمات پی ایچ اے سیکیورٹی انتظامیہ کی مدعیت میں درج کیے گئے جن میں سنگین نتائج کی دھمکیاں، توڑ پھوڑ، کار سرکار میں مداخلت کی دفعات شامل ہیں۔ پہلا مقدمہ گیارہ، دوسرا 12دسمبر کو درج کیا گیا، پہلا مقدمہ سیکیورٹی سپروائزرمحمد یوسف جبکہ دوسرا ذیشان حیدر نقوی کی مدعیت میں درج کیا گیا۔

دوسری جانب لاہور سے تعلق رکھنے والے نجی چینل سٹی 42 نے دعویٰ کیا ہے کہ پی ڈی ایم کے جلسے کی اجازت کے درخواست کنندہ پانچ لیگی رہنماؤں کے خلاف لینڈ ریونیو ایکٹ کے تحت کارروائی کا فیصلہ کیا گیا ہے اور انہیں پی ایچ اے کاطے کردہ جرمانہ 4 سے5کروڑ ہرصورت دینا ہوگا، وگرنہ اتنی مالیت کی جائیداد ضبط کرلی جائے گی ۔

ان ن لیگی رہنماؤں میں سینیٹر رانامقبول ، رکن اسمبلی سمیع اللہ خان، سابق لارڈ میئر کرنل( ر) مبشرجاوید، سابق اسسٹنٹ اٹارنی جنرل راجہ خرم اور امتیاز الٰہی ایڈووکیٹ شامل ہیں۔ لینڈ ریونیو ایکٹ کے تحت پنلٹی کی ادائیگی سے انکار پر ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر ریونیو کیس کی سماعت کریں گے،پنلٹی کی عدم ادائیگی پر پانچوں لیگی رہنماؤں کی جائیدادوں کی قرقی بھی ہوسکتی ہے۔