ہر ڈکٹیٹر نے اوسطً9سال غیر آئینی حکومت کی جبکہ منتخب وزرا ئے اعظم کو اوسطً2سال سے زیادہ کا عرصہ شاید ہی ملا ہو،نوازشریف نے اے پی سی سے خطاب کے دوران تہلکہ خیز اعلان کردیا

0
73


اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)سابق وزیر اعظم میاں نوازشریف نے لندن سے بذریعہ ویڈیو لنک خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ مجھے معلوم ہے کہ پاکستانی عوام کو اس وقت کتنی مشکلات کا سامنا ہے ، یہ کانفرنس فیصلہ کن موڑ پر ہورہی ہے۔ہر طرح کی مصلحت چھوڑ کر اپنی تاریخ پر نظر ڈالیں اور بے باک فیصلہ کریں ،دعا ہے کہ آصف زرداری کو صحت عطا فرمائے ، پرسوں بلاول بھٹو سے بات کر کے بہت خوشی ہوئی جسے کبھی نہ بھلا سکوں گا، اب نہیں تو کبھی نہیں ، مولانا فضل الرحمن کی سوچ سے متفق ہوں،ملک کا نظام وہ

چلائیں جس کو عوام اکثریت دے۔یہ بات ملک کا بچہ بچہ جانتا ہے کہ 73سالہ تاریخ میں کسی بھی وزیر اعظم کو پانچ سالہ مدت پوری نہیں کرنے دی گئی ، ہر ڈکٹیٹر نے اوسطً9سال غیر آئینی طور پر حکومت کی ، جبکہ عوام کے ووٹرز سے منتخب وزرا ئے اعظم کو اوسطً2سال سے زیادہ کا عرصہ شاید ہی ملا ہو۔پاکستان کو جمہوری نظام سے مسلسل محروم رکھا گیا، 2بار آئین توڑنے والوں کو بریت کا سرٹیفکیٹ عدالت نے دیا،ڈکٹیٹرز کو آئین سے کھلواڑ کرنے کا اختیار دیا گیا،جب ڈکٹیٹر کو پہلی بار کٹہرے میں لایا گیا تو سب نے دیکھا کیا ہوا؟اس کے برعکس ان وزرائے اعظم کو دیکھئے جو عوام کے ووٹوں سے وزیر اعظم بنے ۔اس نااہل حکومت نے پاکستان کو کہاں سے کہاں لاکھڑا کیا ہے، معیشت بالکل تباہ ہو چکی ہے ، پاکستانی روپیہ بھارت، بنگلہ دیش، نیپال سے بھی نیچے گر چکا ہے ، غریب کیلئے دو وقت کی روٹی مشکل ہو چکی ہے ، بجلی ، گیس کے بل آسمان سے باتیں کر رہے ہیں ، اس نااہل حکومت نےہر معاملے پریو ٹرن لیا ہے ۔ قرضوں میں اتنا اضافہ ہو گیا ہے کہ پچھلے تمام ریکارڈ ٹوٹ چکے ہیں۔ووٹ کو عزت نہ ملی اور قانون کی حکمرانی نہ آئی تو پاکستان معاشی طور پر مفلوج ہی رہے گااور ایسے ممالک اپنے دفاع کے قابل نہیں رہتے ، خاص طور پر جب ، جب دشمن ممالک آپ کی کمزوریوں کا فائدہ اٹھا رہے ہیں۔