ہم کیا تھے اور کیا ہو گئے!!!


ہمارے ملک، ہمارے معاشرے کا اگر کوئی تجزیہ کرے یا تاریخ لکھے تو وہ کیا لکھے گا ؟؟؟شاید وہ یہ لکھے گا یہ ایک ایسا معاشرہ تھا جس میں تری باقی تھی، جس میں ایمان کی رمق باقی تھی۔۔۔ جس میں دین کی چنگاری پنہاں تھی، ایک ایسی قوم تھی جو روز مرتی تھی مگر جینا نہیں چھوڑتی تھی۔۔۔جس کے بچے کانے اور تختی سے پڑھ کر نکلے اور ایٹم بم بنا ڈالا,اسے معلوم ہی نہیں ہو سکا وہ کس خمیر کی مٹی سے بنی ہے ؟؟؟وہ کیا کچھ نہیں کر سکتی جو بغیر چھت کے سو جاتی تھی ۔۔۔ جو ایک بار ٹھان لے اس کو پورا کرنے میں پوری کائنات اس کا ساتھ دیتی تھی ،اس قوم کو سب کچھ دینے اور سب کچھ لینےکا فن آتا تھا۔۔۔ جو ناچتی تھی تو موسم بدل دیتی تھی اور جب روتی تھی تو آسمانوں کو رلا دیتی تھی۔۔۔

یہ ایک ایسی ترقی یافتہ قوم تھی جس نے دوسرے ملکوں کو جینے کا ڈھنگ سکھایا۔۔۔ یہ ایسی قوم تھی جس میں شرم و حیا تھی۔۔۔ ایمان داری تھی مگر پھر اس قوم نے اپنا سب کچھ بھلا دیا ۔۔۔اس نے اپنا دین بھلا دیا ۔۔۔اپنے ایمان کو بیچ دیا اور اپنے اوپر پڑھنا لکھنا اور سچ بولنا حرام کر لیا۔۔۔۔ ہر شخص اپنے اوپر ہونے والے ظلم بیان کرتا مگر جب اور جہاں موقع ملتا اپنے سے کمزور کو پیس دیتے اور کوئی رعایت نہ چھوڑتے۔۔۔ مورخ شاید یہ بھی لکھے کہ اس قوم نے ایک بچی کے سر میں گولی ماری اور اس کا علاج تک نہ کرسکی ۔۔۔ جب اس بچی نے ملک سے باہر جا کر کتاب لکھی تو پورے ملک نے کفر کے فتوے لگا دیئے مگر کسی ایک بچی کو تعلیم یا زندگی کی گارنٹی نہ دی۔۔۔۔

اس قوم نے اپنے محسن ڈاکٹر عبدالقدیر کی حب الوطنی پر شک کیا اور ان کو ساری قوم سے معافی مانگنے پر مجبور کیا ۔۔۔مورخ لکھے گا کہ یہ ایک ایسی قوم تھی جو دوسرے ملکوں کی دی ہوئی بھیک پر پلتی تھی لیکن ان کو مانتی کافر تھی۔۔۔یہ ایک ایسی قوم تھی جو سوا سو سالوں میں تصویر کے جائز اور ناجائز ہونے کا فیصلہ ہی نہ کر سکی۔۔۔یہ ایک ایسی قوم تھی جو اپنے دوسرے مسلمان بھائی کو کافر کہتی تھی۔۔۔ ایک ایسی قوم تھی جو رشوت کو اپنا حق سمجھتی تھی۔۔ ایک ایسی قوم تھی جس کو کہانیاں سنانے کا شوق تھا مگر عمل کا نہیں۔۔۔

جو سچ سے منہ پھیر لیتی تھی اور ظلم کا ہاتھ روکنے کی بجائے اس کا ساتھ دیتی تھی۔۔۔ مورخ یہ بھی لکھا گا ایک ایسی قوم تھی جو “تعلیم سب کیلئے” کا نعرہ تو لگاتی تھی مگر سکولوں کو بموں سے اڑا دیا کرتی تھی اور جہاں عالم پڑھائی کو بغیرتی کی وجہ بتاتے تھے ۔۔۔یہ ایک ایسی قوم تھی جہاں جھوٹ کی فیکٹریاں تھیں۔۔ اس کا معیار اتنا گر چکا تھا جس بندے پر اس کے اعمال کی وجہ سے تھوکنے کو دل نہ چاہے۔۔۔ یہ اپنے مفاد کے لئے اس کی خوشامد کرتی تھی۔۔۔ ایک ایسی قوم تھی جہاں لوگوں نے بولنا اس لئے سیکھا تھا کہ باقی لوگوں کو بیوقوف بنا سکیں اور حدیث کی روشنی میں ملعون ٹھہریں۔۔۔ مورخ لکھے گا کہ جس قوم کو اپنے پیچھے ادارے, افراد, اور منصوبے چھوڑ کر جانے تھے وہ پلاٹس اور شاپنگ پلازے چھوڑ گئی۔۔۔ مورخ لکھے گا جس قوم نے روٹی اس لئے کھانی تھی کہ رزاق کا شکر ادا کر سکے لیکن روٹی ہی اس قوم کو کھا گئی۔۔۔ یہ قوم صرف وہ علم حاصل کرنا چاہتی تھی جس کا حصول صرف پیسہ ہو لیکن یہ وہ بھی نہ کر سکی ۔۔۔۔

مورخ لکھے گا یہ ایک ایسی قوم تھی جہاں غریب کو اپنا ہر کام کرنے کے لیے دن میں ہزاروں سجدے کرنے پڑتے تھے ۔۔۔جہاں سچ بولنے کی زکوٰاۃ تنہائی تھی, جہاں ٹھنڈے مزاج لوگوں کو بغیرت کہا جاتا تھا۔۔۔ مورخ لکھے گا یہ ایک ایسی قوم تھی جو اپنے رشتہ داروں کا حق مارنا اپنا فرض سمجھتی تھی اور شاید یہ بھی لکھے کہ جس اسلام کے نام پر ملک لیا اسی اسلام کو اسی ملک میں سب سے زیادہ نظر انداز کیا۔۔۔ اس قوم کا مسلمان پردے کے ہلنے سے تو ڈر جاتا تھا لیکن اللہ سے نہیں ۔۔۔ مورخ شاید یہ بھی لکھے ایک ایسا ملک تھا جہاں 5 ہزار بچے سالانہ نالیوں اور کچرے کے ڈبوں میں پھینک دیئے جاتے تھے۔۔۔ چھ ہزار قتل ہو جاتے تھے، وہاں کئی ہزار کروڑ پتی تھے لیکن اس ملک کے لوگ اپنے بچے بیچ کر پیٹ بھرتے تھے۔۔۔ مورخ لکھے گئے ایسا ملک تھا جہاں ہر سال لاکھوں لوگ حجج کرنے جاتے تھے لیکن وہ ملک ایمان داری میں 165ویں نمبر پر تھا۔۔۔