0
485

فیک نیوز: انڈیا میں جعلی خبروں کے پیچھے ’قوم پرستی کا جذبہ کارفرما‘

بی بی سی کی ایک تحقیق میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ انڈیا میں قوم پرستی کا جوش عام شہریوں کو جعلی خبریں پھیلانے کی تحریک دیتا ہے۔

تحقیق میں پتہ چلا ہے کہ ان میں سے بہت سے لوگوں میں حقائق کی اہمیت سے کہیں زیادہ قومی شناخت کو اجاگر کرنے کی جذباتی خواہش جوش مارتی نظر آتی ہے۔

سوشل میڈیا کے تجزیے سے معلوم ہوا کہ دائیں بازو کے نیٹ ورک بائیں بازو سے کہیں زیادہ منظم ہیں اور یہ قوم پرستی والی جعلی خبروں کو پھیلانے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔

ٹوئٹر اور انڈیا کے وزیر اعظم کی پشت پناہی کرنے والے نیٹ ورکس پر بھی فیک نیوز یعنی جعلی خبروں کے ذرائع چھائے رہتے ہیں۔

یہ رپورٹ ٹوئٹر کے نیٹ ورکس کا تجزیہ کرتے ہوئے اس بات کی بھی جانچ کرتی ہے لوگ انکرپٹڈ میسجنگ ایپس میں کس قسم کے پیغامات کا تبادلہ کرتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیے

جعلی خبروں سے کیسے نمٹا جائے؟

جعلی خبروں کے سیلاب سے کیسے نمٹا جائے؟

بی بی سی کے لیے یہ تجزیہ اسی وقت ممکن ہو سکا جب موبائل فون صارفین نے بی بی سی کو اپنے فون کی جانچ کرنے کا حق اور اجازت دی۔

یہ تحقیق ایک بین الاقوامی پیش رف BeyondFakeNews# یعنی جعلی خبروں سے ماورا کے تحت کی گئی ہے۔
رپورٹ کی خاص باتیں:
قوم پرستی جعلی خبریں پھیلانے میں معاون ہے
بی بی سی نے بیک وقت انڈیا، کینیا، نائجیریا میں تحقیق کی ہے
رپورٹ میں انکرپٹڈ چیٹ ایپس میں جعلی خبریں پھیلانے کے عمل کو تفصیل کے ساتھ سمجھایا گیا ہے
خبروں کو شیئر کرنے میں جذباتی پہلوؤں کا اہم کردار ہوتا ہے
انڈیا میں لوگ ایسے پیغامات کو شیئر کرنے میں جھجھک محسوس کرتے ہیں جو ان کے مطابق تشدد پیدا کرنے کا باعث ہو سکتی ہیں لیکن یہی لوگ قوم پرستی والے پیغامات کو شیئر کرنا اپنی ذمہ داری سمجھتے ہیں۔

انڈیا کی ترقی، ہندو قوت اور ہندو وقار کی بحالی کے متعلق پیغامات بڑے پیمانے پر بغیر حقائق کی جانچ پڑتال کیے آگے بھیج دیے جاتے ہیں۔

اس قسم کے پیغامات کو شیئر کرنے والے یہ محسوس کرتے ہیں کہ وہ قوم کی تعمیر کے لیے کام کر رہے ہیں۔

سنہ 2018 میں ڈیجیٹل انفارمیشن کی دنیا میں آنے والے سیلاب نے صورت حال کو مزید خراب کر دیا ہے۔

انڈیا میں وٹس ایپ پر غلط افواہوں کو وسیع پیمانے پر شیئر کرنے کے نتیجے میں تشدد کی ایک لہر نظر آئی ہے جس میں لوگوں نے بچہ کو اغوا کرنے والی غلط خبر کو اپنی ذمہ داری سمجھ کر شیئر کیا کہ وہ اپنے رشتہ داروں اور برادریوں کے بچوں کو بچانے کا کام کر رہے ہیں۔

بی بی سی کے ایک علیحدہ تجزیے میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ سوشل میڈیا پر اس قسم کی افواہوں کے نتیجے میں انڈیا میں گذشتہ ایک سال میں کم از کم 32 افراد ہلاک کر دیے گئے ہیں۔

کینیا اور نائجیریا میں جعلی خبروں کے پھیلاؤ کے پس پشت بھی ایک قسم کے فرض کا احساس کار فرما رہتا ہے۔سوشل میڈیا پر لنگڑاتا سچ اور دوڑتا جھوٹ

نیویارک ٹائمز کا ادارتی صفحہ ٹرمپ کے حامیوں کے لیے مختص

لیکن ان دونوں ممالک میں لوگ قومی تعمیر کے جذبے سے مغلوب ہونے کی جگہ بریکنگ نیوز سے زیادہ متاثر ہوتے ہیں۔

ان تینوں ممالک میں مین سٹریم مڈیا پر بھروسے کی کمی نے لوگوں کو متبادل ذرائع سے حاصل معلومات کو صداقت کی جانچ کیے بغیر پھیلانے کی جانب دھکیلا ہے۔ وہ یہ سمجھتے ہیں کہ وہ حقیقی خبریں پھیلانے میں مدد کر رہے ہیں۔ لوگ غلط خبر یا جعلی خبریں پہچاننے کی صلاحیت کے بارے میں بھی ضرورت سے زیادہ پر اعتماد نظر آتے ہیں۔

جعلی خبروں کا مودی سے تعلق

بگ ڈیٹا کے تجزیہ کا استعمال کرتے ہوئے ٹوئٹر کے نیٹ ورکس کے تجزیے میں بی بی سی نے یہ پایا کہ بائیں بازو کا رجحان رکھنے والے جعلی خبروں کے ذرائع کے آپسی رشتے کم ہیں۔

جبکہ دائیں بازو کے رجحان والے جعلی خبروں کے ذرائع کے درمیان گہرا تعلق ہے اور یہ بائیں بازو کے مقابلے فیک نیوز پھیلانے میں زیادہ موثر ہیں۔

انڈیا، کینیا اور نائیجیریا میں عام لوگ نادانستہ طور پر اس امید کے ساتھ ان خبروں کو شیئر کرتے ہیں کوئی دوسرا ان کی صداقت کی جانچ کر لے گا۔

اگر ہندوستان میں جعلی خبروں کے پھیلاؤ میں قوم پرستی کا جذبہ کار فرما ہے تو وہیں کینیا اور نائیجیریا میں قوم کی فکر اور ان سے وابستہ امیدیں اہمیت کی حامل ہیں۔

انڈیا: گجرات اور ہماچل پردیش میں بی جے پی کی فتح

نریندر مودی کے حکم پر سمرتی ایرانی کا حکم نامہ واپس

کینیا میں وٹس ایپ پر شیئر کی جانے والی فیک نیوز میں مالی گھپلوں اور تکنیکی تعاون کے متعلق ایک تہائی خبریں ہوتی ہیں جبکہ نائیجیریا میں فوج اور دہشت گردی کے متعلق خبریں زیادہ تعداد میں شیئر کی جاتی ہیں۔

کینیا اور نائیجیریا میں لوگ مرکزی دھارے کی میڈیا کے ذرائع اور فیک نیوز کے اہم ذرائع کا برابر تناسب میں استعمال کرتے ہیں۔

تاہم وہاں اصل خبر کو جاننے کی خواہش اور جستجو انڈیا کے مقابلے کہیں زیادہ ہوتی ہے۔
نائجیریا میں فیک نیوز
افریقہ میں لوگ یہ نہیں چاہتے کہ ان سے کوئی خبر چھوٹ جائے۔ ان کے سماج میں ایک باخبر شخص کی شبیہ اس کی سماجی حیثیت کا معاملہ ہے۔

ایسے عوامل نجی نیٹ ورکس میں جعلی خبروں کے پھیلاؤ کے امکانات کو بڑھاتے ہیں خواہ لوگ سچائی کی تصدیق کے لیے سنجیدہ کیوں نہ ہوں۔

بی بی سی ورلڈ سروس میں آڈیئنس ریسرچ شعبے کے سربراہ ڈاکٹر شانتانو چکرورتی کہتے ہیں کہ ‘اس تحقیق کے مرکز میں یہ سوال اہم ہے کہ عام لوگ جعلی خبریں کیوں پھیلا رہے ہیں جبکہ وہ یہ بھی کہتے ہیں کہ وہ جعلی خبروں کے بارے میں متفکر ہیں۔ اس میں تفصیلی کوالیٹیٹو اور علم بشریات کی تکنیک کے ساتھ ڈیجیٹل نیٹ ورک تجزیے اور بگ ڈیٹا ٹیکنالوجیز کی مدد لی گئی ہے۔ یہ رپورٹ انڈیا، کینیا اور نائیجیریا میں مختلف زاویوں سے فیک نیوز کو سمجھنے کی کوشش کرتی ہے۔’

بی بی سی ورلڈ سروس گروپ کے ڈائریکٹر جیمی اینگس کہتے ہیں کہ ‘میڈیا میں زیادہ تر بات چیت مغرب میں جعلی خبروں کے حوالے سے ہی ہوئی ہے، یہ ریسرچ اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ باقی دنیا میں بھی بہت سنگین مسائل پیدا ہو رہے ہیں جہاں سماجی میڈیا پر خبروں کو شیئر کرتے ہوئے قوم کی تعمیر کا جذبہ سچ پر غالب ہو رہا ہے۔

‘بی بی سی کی بيانڈ فیک نیوز نامی پیش قدمی غلط اطلاعات کے پھیلاؤ سے نمٹنے میں ہمارے عزم کا غماز ہے۔ اس ضمن میں یہ ریسرچ بیش قیمت معلومات فراہم کرتی ہے۔’

تحقیق کے دیگر نتائج:

فیس بک
نائیجیریا اور کینیا میں فیس بک کے صارفین خبروں کے جعلی اور سچے ذرائع کے مساوی استعمال کرتے ہیں اور اس بات کی زیادہ پروا نہیں کرتے کہ ان میں قابل اعتماد کون ہے اور کون جعلی ہے۔

فیس بک پر انڈیا میں صورت حال مختلف ہے۔

انڈیا میں مخصوص نظریات کے حاملین فیس بک پر یا تو جانے پہچانے جعلی ذرائع سے منسلک ہیں یا پھر قابل اعتماد ذرائع سے۔ ایسا کم ہی ہے کہ لوگ دنوں ذرائع سے منسلک ہوں۔

ہماری تحقیق میں یہ بات بھی سامنے آئی ہے کہ جن کی جعلی خبروں کے جانے پہچانے ذرائع میں دلچسپی ہے ان کی سیاست اور سیاسی جماعتوں میں بھی زیادہ دلچسپی ہے۔

نسل کا فرق
کینیا اور نائیجیریا میں معمر افراد کے مقابلے میں نوجوان قبائلی اور مذہبی عقائد پر کم توجہ دیتے ہیں اور جعلی خبریں شیئر کرتے ہوئے بھی اپنے عقائد سے کم ہی متاثر ہوتے ہیں۔

جبکہ انڈیا میں کی جانے والی تحقیق سے پتہ چلتا ہے کہ یہاں کے نوجوان خود کو اپنی ذات پات، نسل اور عقیدے سے جوڑ کر دیکھتے ہیں۔ اسی لیے ان کے شیئر کرنے کا پیٹرن اپنی پیش رو نسل کی طرح ان سے متاثر ہوتا ہے۔

لفظوں سے زیادہ تصاویر
تحقیق میں یہ بات بھی سامنے آئی ہے کہ لوگ تحریری مواد کے مقابلے میں تصاویر اور میمز کے ذریعے کافی مقدار میں فیک نیوز شیئر کرتے ہیں۔

یہ رپورٹ اس وقت آئی ہے جب فیس بک، گوگل اور ٹوئٹر مشترکہ طور پر اپنے فورمز پر جعلی خبروں کے اثرات پر تبادلۂ خیال کرنے کے لیے سر جوڑ کر بیٹھے ہیں۔

LEAVE A REPLY