سعودی عرب میں پاکستانی محنت کشوں کیساتھ جانوروں جیسا سلوک ، کمپنی معاہدے کے تحت 2000سے زائد افراد کوریاض لیکر آئی تو کیا کیا گیا؟جان کرآپ بھی وہاں کام کیلئے جانے سے توبہ توبہ کرینگے

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک ) سعودی عرب کے دارالحکومت ریاض میں دو ہزار سے زائد پاکستانی محنت کش گزشتہ 18ماہ سے بغیر تنخواہ کے کیمپوں میں زندگی بسر کرنے پر مجبور ، کیمپوں میں رہائش پذیرپاکستانی سہولیات سے محروم، اقامے ختم ہو چکے ،ملک جانیکی اجازت نہیں،پاکستانی سفارتخانہ خاموش،روزنامہ جنگ کے مطابق ہولڈنگ کمپنی سے منسلک پاکستانیوں کا کہنا ہے کیمپوں میں رہتے ہوئے انکے اقامےبھی ختم ہو چکے ہیں،ریاض کے علاقے الیہ کے ایک کیمپ میں موجود پاکستانیوں کو سعودی کمپنی معاہدہ کے تحت دیار غیر میں تو لے آئی مگر محنت کشوں کو گزشتہ اٹھارہ ماہ سے تنخواہیں نہیں

دی گئیں، رزق حلال کی تلاش میں پردیس کی مشکلیں کاٹنے والے دو ہزار سے زائد پاکستانیوں کو ریاض کے مختلف کیمپوں میں رکھا گیا ہے ،18 ماہ سے جیل جیسے حالات میں شب و روز گزارنے والوں کے اقامے بھی ختم ہو چکے، کمپنی واجبات ادا کر رہی ہے نہ ہی انہیں وطن واپس بھجوانے کا کوئی بندوبست ہے۔انہوں نے حکومت پاکستان سے مدد کی اپیل کی ہے۔