مہنگائی اور بیروزگاری کا ڈسا ہواتعلیم یافتہ نوجوان

0
382

وزیر اعظم عمران خان نے پانچ سالوں میں ایک کروڑ نوکریاں دینے کا وعدہ کیا ہوا ہے لیکن امر واقع یہ ہے کہ مہنگائی کے اس ہوشربا دور میں بے روزگار تعلیم یافتہ نوجوان بدترین حالات کا شکار ہیں ،اس پر مستزاد کہ ان کے کفیل بھی اداروں سے نکال دئے جائیں اور ان گھروں کے چولہے بھی بجھا دئے جائیں کہ جو عرصہ سے ریڑھیاں لگا رہے تھے ،دوکانوں میں کاروبار کررہے تھے مگر اب انہیں ناجائز قابضین وغیرہ کے الزام اور آپریشنز سے بے روزگار کیا جارہا ہے ۔ملک میں بڑھتی بے روزگاری کسی طوفان کی پیش خیمہ ہے۔

انسان کی تگ و دو کا اہم مقصد بنیادی انسانی ضرورتوں کا حصول ہے ،اسے جسم و جاں کا رشتہ قائم رکھنے کیلیے خوراک ،تن ڈھانپنے کا کپڑا اور موسموں کی تندی و تیزی سے بچنے کیلیے مکان کی ضرورت ہے جبکہ پتھر کے زمانے سے لے کر آج کے خلائی دور تک انسان کی ان ضرورتوں میں بڑا فرق نہیں آیا۔ آج ہم اکیسویں صدی کی میں کھڑے ہیں مگر عالمی صورتحال کا معروضی جائزہ لیں تو مہنگائی کی وجوہ اور اثرات کا تقریباً وہی نقشہ نظر آتا ہے جو صدیوں پہلے غیر مہذب دور میں تھا۔ پینے کیلیے صاف پانی کو ترستی مخلوق، فٹ پاتھ اور کشتیوں میں زندگی گزارنے والے لاکھوں لوگ نام نہاد مہذب دور کی چیرہ دستیوں پر ماتم کناں ہیں۔ بڑھتی ہوئی مہنگائی اس بات کا اشارہ کر رہی ہے کہ آئندہ آنے والے وقت میں انسان لقمہ خوراک کو ترس جائیگا۔ اسے اپنے ہاتھوں بڑھائی گی مہنگائی کی لعنت کا احساس ہوگا ۔اس مہنگائی نے غریب کا جینا دوبھر کر دیا ہے ۔

مہنگائی سے بہت خطرناک برائیاں پیدا ہوتی ہیں جن میں سے ایک رشوت ہے جس کا لینا دینا ہمارے معاشرے کا وطیرہ بن چکا ہے ۔ہر کوئی اس کوشش میں ہے کہ روپیہ اسکے پاس سب سے زیادہ ہو ۔ہر کوئی اس ہوس کو پورا کرنے کیلیے دوسروں کی کھال ادھیڑ رہا ہے۔ یہ مہنگائی ہی اس صورتحال کا سبب ہے اور اس معاشرے کی بربادی کی گھنٹی ہے ۔ہمارے ملک میں تعلیم کا شعبہ ہو یا پھر صنعت و حرفت کے شعبے، طب کی تحقیقات ہوں، اصلاحی سرگرمیاں ہوں یا تحریری شعبہ جات، سب میں اگر احساس ذمہ داری پیدا ہوجائے تو یہ صورتحال بہتر ہو سکتی ہے ۔تعلیم کا فقدان تنزلی کی بڑی وجہ ہے ۔کسی بھی معاشرے کی ترقی میں اہم کردار تعلیم ہی کی بدولت ہو سکتا ہے ، بدقسمتی سے پاکستان میں تعلیم کا معیار انتہائی تشویشناک ہے ۔شرح خواندگی کم ہونے کی وجہ سے ملک پاکستان میں غربت بڑھتی جارہی ہے ۔ملکی ترقی کیلیے تعلیم کے ذریعے ہی لوگوں کو شعور دیا جاسکتا ہے۔ دنیا کے تمام ترقی یافتہ ممالک کی ترقی کی اصل وجہ یہی ہے کہ انہوں نے اپنے عوام کو اعلٰی معیار کی تعلیمی سہولیات فراہم کر رکھی ہیں جبکہ پاکستان میں معاملہ اسکے برعکس ہے۔ یہاں دور دراز علاقوں میں اسکول ہی نہیں ہیں۔ جہاں اسکول موجود ہیں وہاں سہولیات کا فقدان ہے۔ جو بجٹ تعلیم کیلیے ملتا ہے اس میں بیشتر حصہ بھی کرپشن کی نذر ہو جاتا ہے حکومت کو معاملے کی سنگینی سمجھتے ہوتی اقدام کرنا ہوگا تاکہ آنے والی نسل کو بہتر تعلیمی سہولیات فراہم کرکے انکا مستقبل روش بنایا جاسکے اور معاشرے سے بیروزگاری بھی ختم ہو سکے۔ تعلیم یافتہ بے روزگاروں کو ضائع ہونے سے بچایا جاسکے ۔ان کو باعزت روزگار دے کر ان ماں باپ کی اْمیدوں کو بارآور کریں جنہوں نے اپنی روز و شب کی مشقت و حاصل کردہ مزدوری سے انکو زیور تعلیم سے آراستہ کیا اور اب اْمید لگائے بیھٹے ہیں کہ انکی زندگیوں میں انکے بچے باعزت روزگار حاصل کرسکیں ۔
اہل اقتدار کیلیے سوچنے کا مقام ہے کہ ان نوجوانوں کی یونین کونسل کی سطح پر اعدادوشمار اکٹھے کرکے ضلعی سطح پر چھوٹے پراجیکٹس بنا کر اور ٹیکس چھوٹ کی سہولیات دے کر روزگار کے مواقع پیدا کئیے جائیں اور انہیں قومی دھارے میں شامل کیا جائے۔ دکھ اسوقت بڑھ جاتا ہے جب ایک بیروزگار جو مزدوری کرکے ریڑھی لگاتا ہے تاکہ بچوں اور بوڑھے والدین کی کفالت کرے اسکی ریڑھی کو بمعہ سامان اْلٹا دیا جاتا ہے اور وہ دل برداشتہ ہو کر بیٹھ جاتا ہے یا خودکشی پر مجبور ہو جاتا ہے یا اپنے بچوں کو مارنے اور بیچنے پر آمادہ ہو جاتا ہے یا قانون سے ٹکر لیکر شعلہ انتقام بن جاتا ہے ۔آپ ان کے لئے کچھ نہیں کررہے کیونکہ آپ کی تیار کردہ بیروزگار اسکیمیں توان کے لیے ہیں جو سیاسی جماعتوں کے کارکن ہیں؟ باقی بے روزگار کہاں جائیں؟

یہ بلاگر کا ذاتی نقطہ نظر ہے جس سے ادارہ کا متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔

بلاگ

ام کلثوم سیّد

LEAVE A REPLY