57 بیوٹی کریموں میں جلد اور صحت کیلئے خطرناک مرکری موجود ہے، زرتاج گل


وفاقی وزیر برائے موسمیاتی تبدیلی زرتاج گل کا حیرت انگیز انکشاف کرتے ہوئے کہنا تھا کہ ملک میں رنگ گورا کرنے کے نام پر بکنے والی 59 کریموں میں سے 57 کریموں میں جلد اور صحت کے لیے خطرناک مرکری پایا گیا ہے، انہوں نے کہا کہ مرکری جسے پارہ بھی بولا جاتا ہے وہ تھرما میٹر، بی پی آپریٹر اور ڈینٹل کی فلنگ کے لئے استعمال ہوتا ہے۔

وفاقی وزیر نے کہا کہ ہم چاہتے ہیں کہ ہر چیز کو مرکری سے پاک کریں تاکہ لوگوں کی صحت کا خیال رکھا جا سکے، انہوں نے بتایا کہ جن 59 کریموں میں سے 57 کریموں میں مرکری پایا گیا ہے اس میں انٹرنیشنل برانڈز کی کریمیں بھی موجود ہیں، اس کے علاوہ لیب میں چودہ صابن کے بھی ٹیسٹ کیے گئے جن میں سے چار جلد کے لیے خطرناک قرار پائے۔

انہوں نے کہا کہ مختلف کریموں اور صابن کے مختلف برانڈز کا لیبارٹری میں ٹیسٹ کرنے کا مقصد کسی کا کاروبار خراب کرنا نہیں ہے بلکہ ہم ان پروڈکٹ کے مالکان سے مل کر اس مسئلے کا حل نکالیں گے، انہوں نے بتایا کہ سونے کی کانوں میں بھی سونا نکالنے کے لیے مرکری کا استعمال کیا جاتا ہے، اسکن وائٹننگ کریمیں جلد اور صحت کے لیئے نقصان دہ ہیں، اب تمام ٹیسٹ پی ایس کیو سی اے سے ہونگے۔

زرتاج گل نے کہا کہ 2013 میں پارے سے ہونے والی بیماری میناماٹا پر کام ہوا تھا، اس کے بعد کام نہ ہوا، کل کابینہ میں میناماٹا کنونشن کی توثیق کی گئی ہے، گلگت میں بھی 150 فیملیز پر تحقیق کی، ہر فیملی میں ایک بچہ معذور ہے، ہماری خواہش ہے کہ پلاسٹک بیگز کو ختم کرکے پاکستان کو کلین اینڈ گرین پاکستان بنایا جائے۔

وزیر مملکت زرتاج گل کا کہنا تھا کہ ہمارے میڈیا پر رنگ گورا کرنے والی کریموں کے حوالے سے بہت بری کمپین چلائی جاتی ہے، ان میں یہ تاثر دینے کی کوشش کی جاتی ہے کہ اگر اپ گورے چٹے نہیں ہوں گے تو آپ کی شادی نہیں ہوگی آپ کو کوئی پسند نہیں کرے گا، انہوں نے کہا کہ کالا ہونا بری بات نہیں ہے یہ خواتین کا ہی نہیں بلکہ مردوں کا بھی مسئلہ ہے، لہذا رنگ گورا کرنے کے چکر میں اپنی اسکن اور جلد کے ساتھ مت کھیلئے۔