پاکستان میں امریکی کانٹریکٹر کی دنیا تاریک ،کتنی کمپنیاں کام کررہی ہیں اور ان کو کو ن آپریٹ کررہاہے؟امریکی رپورٹ میں حیرت انگیزانکشافات

واشنگٹن(این این آئی)امریکہ کی جانب سے ایک رپورٹ شائع کی گئی جس میں بتایا گیا کہ پاکستان میں امریکی کانٹریکٹر کی دنیا تاریک ہے۔2010 میں امریکہ کی جانب سے ایک اعلان کیا گیا کہ کسی بھی کانٹریکٹر کو 30 روز میں پاکستان اور افغانستان میں کسی بھی جگہ پر پہنچنے کی صلاحیت کو برقرار رکھنا ہے۔ امریکہ کے سب سے پرانے جریدے دی نیشن نے اس اعلان کو 2010 میں نمایاں کیا تھا جس میں نجی وار کنٹریٹر کی درخواستوں کا ذکر ہے جو امریکہ کے فوجی سامان کو پاکستان کے حساس علاقوں سے گزار کر افغانستان پہنچانے سے متعلق تھی

ٗان کانٹریکٹر کے ذمے جو کام تھے ان میں پاکستان اور افغانستان میں امریکی ساز و سامان کو لاحق خطرات سے متعلق انٹیلی جنس رپورٹ امریکی حکام کو فراہم کرنا تھا۔ایک دلچسپی نوٹس بھی اس کا حصہ تھا جسے پاکستانی میڈیا نے مکمل طور پر نظر انداز کیا تھا جو کام کی شدت کو اس طرح وضع کرتا تھا کہ اوسطاً 5 ہزار درآمد شپمنٹ پاکستان گراؤنڈ لائن آف کمیونیکیشن سے ماہانہ افغانستان جائیں گی، لیکن ان میں 5 سو برآمد شپمنٹ بھی ہوں گی۔ان کانٹریکٹ کے شرائط و ضوابط سے ظاہر ہوتا ہے کہ امریکی اہلکار ان آپریشنز میں براہِ راست شامل تھے، تاہم امریکیوں نے اپنے امور انجام دینے کے لیے بڑی تعداد میں پاکستانیوں اور افغانیوں کی خدمات حاصل کیں۔دی نیشن کے اس مضمون میں بتایا گیا تھا کہ امریکہ کے محکمہ دفاع میں رجسٹرڈ ہونے والی کمپنیوں میں افغانستان کی کمپنی کا تعلق سی آئی اے کے سابق افسر سے ہے جبکہ اسے افغانستان کے سابق وزیرِ دفاع کا بیٹا چلاتا ہے جبکہ پاکستانی فرم کے تانے بانے بلیک واٹر سے ملتے ہیں جو پاکستان میں امریکہ کی ایک نجی سیکیورٹی کمپنی تھی۔امریکی میڈیا میں تو کانٹریکٹرز کے معاملات کو نمایاں کیا جاتا رہا تاہم دنیا کی توجہ اس جانب تب مبذول ہوئی جب براؤن یونیورسٹی کے کاسٹس آف وار پروجیکٹ کی جانب سے ایک رپورٹ میں یہ انکشاف ہوا تھا کہ گزشتہ 17 سال کے دوران پاکستان میں دہشتگردی کے خلاف جنگ میں مارے جانے والے 65 ہزار پاکستانیوں میں سے 90 امریکی بھی شامل تھے۔براؤن یونیورسٹی کی رپورٹ کے مطابق 2001 سے اب تک 7 ہزار 8 سو 20 امریکی کانٹریکٹرز مارے جاچکے ہیں، جن میں 3 ہزار 9 سو 37 افغانستان میں اور 3 ہزار 7 سو 93 عراق میں جبکہ 90 پاکستان میں مارے گئے۔زیادہ تر پاکستانیوں کے لیے 90 بہت بڑا نمبر ہے جو انہیں یہ احساس دلاتا ہے کہ ان کے علم میں آئے بغیر ہزاروں امریکی کانٹریکٹرز ان کے ملک میں کام کر رہے ہیں۔2010 میں جاری ہونے والے اعلان کے مطابق امریکہ کو پاکستان میں اس کی فوج کی محدود موجودگی اور افغانستان میں فوج کی سرگرمیوں کی وجہ سے لاحق خطرات کے باعث نجی کانٹریکٹرز کی خدمات حاصل کی گئیں۔ کانٹریکٹر کے کام کو اس طرح واضح کیا گیا کہ ایک کانٹریکٹر کو چوکنا رہنا ہے اور اسے ان طریقوں کی نشاندہی کرنی ہے جن کی مدد سے سامان کی ترسیل آسان بنائی جاسکے۔امریکی کی جانب سے پاکستان میں امریکی کانٹریکٹرز کے اعداد و شمار سامنے نہیں آسکے لیکن امریکہ کی سینٹرل کمانڈ (سینٹ کام) نے 2012 میں کانگریس کو بتایا تھا کہ تقریباً ایک لاکھ 37 ہزار امریکی کانٹریکٹرز عراق، افغانستان اور پاکستان میں موجود تھے۔سینٹ کام کے مطابق ان کانٹریکٹرز میں 40 ہزار ایک سو 10 امریکی، 50 ہزار 5 سو 60 مقامی جبکہ 46 ہزار 2 سو 31 ایسے کانٹریکٹر تھے جو نہ امریکی تھے اور نہ ہی مقامی۔امریکہ کے محکمہ دفاع کی جانب سے بتایا گیا تھا کہ اپنے عروج کے وقت (2008 سے 2011) کے درمیان عراق اور افغانستان میں کانٹریکٹرز کل فورس کا 52 فیصد تھے۔پاکستان کی صورتحال پر اپریل 2012 میں ایک صحافی انٹونی لیووینسٹین نے ایک آسٹریلوی اشاعت میں لکھا تھا کہ پاکستان میں امریکہ کی نجی سیکیورٹی ریاست میں ایک ریاست ہے۔انہوں نے بتایا کہ پاکستان میں ایسے 62 ریٹائرڈ ملٹری افسران یہ کمپنیاں چلا رہے ہیں جنہیں کرپشن کے الزام میں گرفتار کیا گیا اور بھی بعد میں رہا بھی کردیا گیا ٗان کا اپنی اشاعت میں یہ بھی کہنا تھا کہ 2012 میں جن کمپنیوں کے ناموں کی فہرست سامنے آئی ہے ان میں مشہورِ زمانہ جی 4 ایس ہے جو پاکستان میں جی 4 ایس ویکن ہٹ پاکستان کے نام سے چل رہی ہے۔صحافی کے مطابق جی 4 ایس ایک برطانوی سیکیورٹی کمپنی ہے جس پر انسانی حقوق کی خلاف ورزی کے سیکڑوں الزامات ہیں۔ایک نیوز ویب سائٹ فارن پالیسی کی جانب سے جنوری 2010 میں جاری ہونے والی رپورٹ میں ان نجی سیکیورٹی کمپنیوں کے کام کرنے کے دور کے بارے میں بتایا گیا تھا۔ بتایا گیا کہ 2010 میں اقوام متحدہ کے ایک اہم سیکیورٹی حکام گریگوری اسٹر جو امریکہ کے اسٹیٹ ڈیپارٹمنٹ سیکیورٹی کے سابق سربراہ بھی ہیں، نے پاکستان میں امریکی کی ان نجی سیکیورٹی کمپنیوں کو بڑھانے کی وکالت کی تھی۔مذکورہ ویب سائٹ کی رپورٹ میں بتایا گیا تھا کہ اقوامِ متحدہ کی جانب سے انہیں بڑھانے پر زور 2009 میں اقوام متحدہ کی رہائش گاہ پر طالبان کے حملے کے بعد تیز ہوگیا تھا جس میں اقوام متحدہ کے 5 ملازمین ہلاک ہوگئے تھے۔رپورٹ میں بتایا گیا تھا کہ جو کمپنیاں پاکستان میں سب سے زیادہ متحرک ہیں ان میں بلیک واٹر یا زی، ٹرپل کینوپی، ڈائن کورپس اور ایجس شامل ہیں، جنہوں نے اب مقامی شراکت داروں کی خدمات بھی حاصل کرلیں۔