اکیسوی صدی میں پانی کی بوند کو ترستی ڈیرہ بگٹی

یہ ایک مسلمہ حقیقت ہے جہاں پانی نہیں وہاں زندگی کا تصور نہیں
ڈیرہ بگٹی اس وقت شدید پانی کی کمی کا شکار ہے پیر کوہ یا زین کوہ اور تحصیل سوئی سمیت کافی جگہوں پر پانی پانی کی صداہیں آرہی ہیں
وقتا فوقتا احتجاجوں کا سلسلہ جاری ہے بعض علاقوں سے نقل مکانی کی اطلاعات مل رہی ہیں


آئیے اس بات کا جائزہ لیں کہ قدرتی وسائل سے مالا مال ضلع ڈیرہ بگٹی جہاں کی آمدنی مہینوں نہیں بلکہ گھنٹوں کے کروڑوں کے حساب سے ہے وہاں پر اس مئسلہ کو حل کرنے کے لیے سنجیدہ کوشیشیں کیوں نہیں کی جارہی گوپٹ سوئی پراجیکٹ کے اربوں روپے کہاں گئے پیرکوہ کے لیے مختص شدہ رقم اور زین کوہ کا پی سی ون کا کیا بنا اور ان پر کیا پیش رفت ہوئی
آخر پانی کے مسئلہ کا زمہ دار کون ہے
گیس کمپنیاں۔منتخب نمائندے ۔وڈیرے۔یا یہاں کے عوام
چونکہ اس وقت الیکشن کی آمد آمد ہے پانی کے مسئلے کو مل بیٹھ کر حل کرنے کے بجائے پانی کے مسئلے پر سیاست بھی کی جاری ہے زندہ باد اور مردہ باد کی صداہیں اور حمایت و مخالفت میں ریلیاں نکالی جارہی ہیں زخموں پر مرہم رکھنے کے بجائے نمک چڑھکا جارہا ہے
پیاسی عوام سیاستدانوں وڈیروں اور کمپنیوں کے ہاتھوں استعمال ہورہی ہے گیس کمپنیوں نے علاقہ مکینوں کو دینے والی واحد سہولت پانی کو ہمیشہ بطور ہتھیار استعمال کیا اور علاقہ مکینوں کو مختلف حیلوں و بہانوں سے پانی کی فراہمی میں تسلسل کے بجائے روڑے اٹکا کر ان کی زندگیوں کو اجیرن بنا رہی ہے
ہم سمجھتے ہیں کہ اس مسئلے کے زمہ دار ہم سب ہیں اس سے پہلے ڈیرہ بگٹی صحرائے تھر کا منظر پیش کرے اور کوئی انسانی المیہ جنم لے تمام اسٹیک ہولڈر گیس کمپنیاں وڈیرے منتخب نمائندے اور عوام سے گزارش ہے کہ اس مسئلہ پر سیاست کرنے کے بجائے تحمل صبر برداشت اور سنجیدگی کا مظاہرہ کریں اور ڈیرہ بگٹی کے مختلف علاقوں پیر کوہ اور زین کوہ میں فراہمی آب کے لیے مخلصانہ اور جامع منصوبہ بندی کے ساتھ اقدامات کیے جائے اور سوئی میں گو پٹ پراجیکٹ کے تکمیل سے پہلے اس وقت کچی کینال میں جو متعلقہ نااہل ذمہ داروں کی وجہ سے کچی کینال کا پانی زراعت کے لئے استعمال نہیں ہورہا بلکہ بھاپ بن کر سوئی کے صحرا میں گم ہو رہا ہے.
کچی کینال کے اس پانی کو سوئی میں لا کر سوئی شہر کی کافی حد تک پانی کی ضروریات کو پورا کیا جاسکتا ہے ایسے جامع منصوبہ بندی اور ہنگامی اقدامات سے ڈیرہ بگٹی کے پیاسی عوام کے لیے پانی کی فراہمی ممکن ہوسکتی ہے اور پانی کے بحران پر بڑی حد تک قابو پایا جاسکتا ہے