آنکھوں کے ذریعے انسان میں مہلک امراض کی نشاندہی کی جاسکتی ہے، ماہرین

آنکھوں کو جسم کی کھڑکی کہا جاسکتا ہے اور شاعروں نے آنکھوں کو احساسات کا جھروکہ کہا ہے لیکن اب ڈاکٹروں کا اصرار ہے کہ آنکھوں کی رنگت، بناوٹ اور مختلف کیفیات سے مختلف امراض کا پتا بھی لگایا جاسکتا یا مستقبل کے امراض کا اندازکیا جاسکتا ہے جن میں کئی امراض جان لیوا بھی ثابت ہوسکتے ہیں جب کہ ان میں امراض میں ذیابیطس کا مرض بہت پہلے ہی آنکھوں میں اپنا عکس نمایاں کردیتا ہے۔

سرخ آنکھیں:

آنکھوں کی مسلسل سرخی بڑھتے ہوئے بلڈ پریشر کی وجہ بھی ہوسکتی ہے جب کہ آنکھیں مسلسل سرخ رہیں تو اس کی وجہ ایک وائرس بھی ہوسکتا ہے۔ ہماری آنکھوں میں خون کی باریک رگیں ہوتی ہیں جو بلڈ پریشر زیادہ ہونے کی صورت میں مزید نمایاں ہوجاتی ہیں اس لیے آنکھوں کی غیرمعمولی سرخی کو نظر انداز نہ کیجئے۔

آنکھوں میں پیلے دھبے:

آنکھوں میں پیلاہٹ کے دھبے چکنائی کو ظاہر کرتے ہیں لیکن یہ ٹائپ ٹو ذیابیطس کی وجہ بھی ہوسکتے ہیں۔

پتلی کے گرد سفید حلقہ

آنکھ کی پتلی کے گرد عموماً گہری رنگت کی آؤٹ لائن ہوتی ہے جسے پتلی کا حلقہ (آئرس رِنگ) کہا جاتا ہے اگر یہ حلقہ سفید ہے تو یہ خون میں کولیسٹرول کی بلند سطح کو بھی ظاہر کرتا ہے اسی طرح پپوٹوں پر چربی کے مجموعے بھی کولیسٹرول کی بلند سطح اور امراضِ قلب کو ظاہر کرتے ہیں۔

پپوٹوں کی زرد رنگت

اگر پپوٹوں کی رنگت پیلی ہو تو یہ جسم میں خون کی کمی کو ظاہر کرتا ہے اور اس کا علاج صرف فولاد سے بھرپور غذاؤں کا استعمال ہے۔

اُبھرتے ہوئے ڈیلے

ماہرین کے مطابق آنکھوں کے اُبھرتے ہوئے ڈیلوں کا تھائیرائڈ غدود سے تعلق ہوسکتا ہے۔ تھائیرائڈ غدود سے خارج ہونے والے ہارمون آنکھوں پر  اثرانداز ہوتے ہیں ۔ تھائیرائڈ غدود ہمارے گلے کے نچلے حصے کی جانب موجود ہوتے ہیں اس سے بے ضرر امراض سے لے کر سرطان کے مرض بھی لاحق ہوسکتے ہیں۔

پلکوں کا ڈھلکنا:

ایک آنکھ یا دونوں آنکھوں کی پلکوں کا نیچے کی جانب ڈھلک جانے کا عمل فالج (اسٹروک) اور بیلز پالسی کو ظاہر کرتا ہے اگر بولنے میں دقت ہو، چہرے کا حصہ بہت دیر تک سن رہتا ہو تو یہ فالج کی وجہ بھی بن سکتا ہے۔ بعض ماہرین اسے دماغی رسولی کا پیش خیمہ بھی قرار دیتے ہیں۔

 آنکھوں میں مسلسل پیلا ہٹ

آنکھوں میں پیلا پن متاثرہ جگر کا پیش خیمہ ہوسکتا ہے ان میں جگر پر ورم ، ہیپا ٹائٹس اور جگر کے دیگر امراض شامل ہیں۔ آنکھوں کی پیلی رنگت ایک کیمیکل بلیروبن کی وجہ سے ہوسکتی ہے جو خون میں ہیموگلوبن کی شکستگی کی وجہ سے ہوسکتی ہے۔