غرور چکنا چور

یوٹی پارلر چلانے والی اور ان میں کام کرنے والی لڑکیوں پر اعتراض اور ان کی کردار کشی کرنے والوں کی مثال بالکل ان منافقوں کی سی ہے جو لڑکیوں کی اعلا تعلیم کے سخت خلاف ہوتے ہیں مگر جب خود ان کی بہو بیٹیاں بیمار پڑتی ہیں تو فوراً کسی لیڈی ڈاکٹر کا پتہ کر کے اس کی طرف دوڑ پڑتے ہیں اور اس کے آگے ہاتھ باندھے کھڑے ہوتے ہیں ۔ بالکل اسی طرح کچھ لوگ بناؤ سنگھار کے پیشے سے وابستہ خواتین کے لئے نہایت ہی حقارت اور اہانت آمیز رویہ رکھتے ہیں مگر جب اپنی بہن بیٹی کی شادی ہوتی ہے تو اس نازوں پلی دودھ کی دھلی کو بیوٹی پارلر والوں کے ہی حوالے کرتے ہیں ۔ پھر ان “مشکوک” کردار خواتین کی خدمات بٹورتے ہوئے ان کی ساکھ پر کوئی حرف نہیں آتا ۔

ہمارے معاشرے میں ایسے لوگ بھی موجود ہیں جو ٹیچر تک کو حقیر جانتے ہیں اور اپنے بچے پڑھنے کے لئے بھیجتے بھی اسی کے پاس ہیں ۔ ایکمرتبہ ایک رشتہ کرانے والی عورت نے لڑکے والوں کو کسی لڑکی کے بارے میں بتایا جو کہ ٹیچر تھی ۔ لڑکے کی چھوٹی بہن نے ناک بھوں چڑھا کر کہا کہ ہمیں نوکری کرنے والی لڑکی نہیں چاہیئے ۔ عورت نے کہا اگر آپ لوگوں کی مرضی نہیں ہو گی تو وہ شادی کے بعد نوکری چھوڑ دے گی ۔ لڑکے کی بہن نے کہا جو لڑکی ایکبار اس لائن میں رہ چکی ہو وہ ہمیں نہیں چاہیئے ۔ جب اس سے پوچھا گیا کہ خود تم نے کس سے پڑھا ہے اور کیوں پڑھا ہے؟ تو اس بات کا اس کے پاس کوئی جواب نہیں تھا ۔ اب اسی واقعے سے آپ اندازہ لگایئے کہ کیسی کیسی ذہنیت کے لوگ معاشرے میں موجود ہیں ۔ وہ جن باتوں چیزوں کو بُرائی کے طور پر لے رہے ہوتے ہیں انہی سے فائدہ اٹھاتے ہوئے انہیں احساس تک نہیں ہوتا کہ وہ خود اپنا تھوکا ہؤا چاٹ رہے ہیں ۔ ہمارا سماجی ڈھانچہ جن بنیادوں پر استوار ہے وہاں قدم قدم پر عورت کی معاونت کارفرما ہوتی ہے مگر یہ اسے عزت دینے پر تیار نہیں ملازمت پیشہ مجبور شریف خواتین کا جینا حرام کر رکھا ہے ۔ بس ان کی کیمسٹری پر تھئیسس کرنے کا ٹھیکہ اٹھا رکھا ہے ۔

لڑکیوں کی کم عمری میں شادی پر زور دیا جاتا ہے ہم بھی مانتے ہیں کہ لڑکی کی بیس سال عمر شادی کے لئے نہایت مناسب ہوتی ہے مگر کچھ لڑکیوں کو قربانی دینی پڑتی ہے ۔ انہیں اپنی عمر کے کئی قیمتی اور سنہرے سال لگا کر ڈاکٹر اور نرس بننا ہوتا ہے تاکہ بیس برس کی عمر میں بیاہی جانے والی بچیاں جب سال بھر بعد اپنا کیلنڈر چھاپ رہی ہوں تو یہ پچیس تیس سالہ بڑی بوڑھیاں ان کی مدد کر سکیں ۔ ان کی مدد اور معاونت کے بغیر تو گذارا ہی نہیں ہے تو پھر ان کی قدر یا عزت کیوں نہیں کی جاتی؟ مسیحا ہو یا مشاطہ اگر ان کے اندر ایسے ہی کیڑے پڑے ہوتے ہیں تو انہیں چُننے سے پہلے خود اپنے گریبان میں جھانک کر دیکھیں کہ کیوں حاضری دیتے ہیں ان کے دربار میں؟ انہیں تصویر کا ایک ہی رخ نظر آتا ہے اسی لئے سب کو ایک ہی لاٹھی سے ہانکتے ہیں مگر اپنا رستہ نہیں بدلتے کیونکہ یہ ان کے بس کی بات ہی نہیں ۔