کتنے فرنچ فرائز کھائیں تو صحت کو نقصان نہیں پہنچتا؟ سائنسدانوں نے فاسٹ فوڈ کے شوقین افراد کو مفید مشورہ دے دیا

نیویارک(مانیٹرنگ ڈیسک) فرنچ فرائز دل کی صحت کے لیے انتہائی مضر قرار دیئے جاتے ہیں تاہم اب ایک سائنسدان نے بتا دیا ہے کہ کتنے فرنچ فرائز کھائیں تو صحت کو نقصان نہیں پہنچتا۔ میل آن لائن کے مطابق ہاورڈ یونیورسٹی کے پروفیسر ڈاکٹر ایرک ریم نے فرنچ فرائز کو ’نشاستہ بم‘قرار دیا ہے جو آدمی کو دل کی سنگین بیماریوں میں مبتلا کر کے ہارٹ اٹیک کا سبب بن سکتا ہے تاہم انہوں نے بتایا ہے کہ ”روزانہ صرف 6فرنچ فرائز کھانے سے صحت کو نقصان نہیں پہنچتا۔اگر آپ دل کے جان لیوا امراض سے بچنا چاہتے ہیں تو سلاد وغیرہ سے اپنی بھوک ہلکی کرنے کے بعد چھ فرنچ فرائز کھایا کریں۔ اس سے زیادہ مقدار خطرناک ہو سکتی ہے۔“

رپورٹ کے مطابق ڈاکٹر ریم نے یہ نصیحت نیویارک ٹائمز میں شائع ہونے والے اپنے آرٹیکل میں کی جس کی بنیاد اطالوی سائنسدانوں کی تحقیق تھی جس کے نتائج میں انہوں نے بتایا تھا کہ ”جو لوگ فرنچ فرائز کھانے سے اجتناب برتتے ہیں ان کی عمر دوسروں کی نسبت 6ماہ زیادہ طویل ہوتی ہے۔“ڈاکٹر ریم کے آرٹیکل پر لوگ سوشل میڈیا پر تنقید کر رہے ہیں۔ ان میں سے اکثر کا کہنا ہے کہ 6فرنچ فرائز کھانے سے تو بہتر ہے آدمی نہ کھائے۔ تاہم میڈیکل کمیونٹی نے ڈاکٹر ریم کے موقف اور اطالوی سائنسدانوں کی تحقیق کی تائید کی ہے اور بتایا ہے کہ روزانہ دو مرتبہ فرنچ فرائز کھانے سے ہارٹ اٹیک کا خطرہ دو گنا بڑھ جاتا ہے۔