آئس نشہ اور نوجوان نسل

دنیا بھر میں روزانہ حیران کن طور پر نشے کے عادی 685افراد موت کے منہ میں چلے جاتے ہیں پاکستان کے کئی بڑے تعلیمی اداروں میں منشیات کے استعمال کی بازگشت اب اکثر سْنائی دینے لگی ہے جس سے اساتذہ اور والدین دونوں ہی پریشان ہیں۔اکثر والدین تو اس وجہ سے پریشان ہیں کہ کہیں اْن کے بچے اس بْری عادت میں مبتلا نہ ہو جائیں اور اکثر اپنے بچوں کے منشیات کے عادی ہو جانے کی وجہ سے ذہنی تناؤ کا شکار ہیں۔اقوام متحدہ کے مطابق پاکستان میں 76 لاکھ افراد منشیات کا استعمال کرتے ہیں جن میں 78 فیصد مرد اور 22 فیصد خواتین ہیں۔ پریشان کْن بات یہ ہے کہ 76 لاکھ لوگوں کی بڑی تعداد 24 سال سے کم عْمر افراد کی ہے۔آئس نشے پر تحقیق کرنے والے ماہرین کا کہنا ہے کہ آئس ’میتھ ایمفٹامین‘ نامی ایک کیمیکل سے بنتا ہے۔ یہ چینی یا نمک کے بڑے دانے کے برابر ایک کرسٹل کی قسم کی سفید چیز ہوتی ہے جسے باریک شیشے سے گزار کر حرارت دی جاتی ہے۔ ان کے مطابق اس کے لیے عام طور پر بلب کے باریک شیشے کو استعمال کیا جاتا ہے جبکہ اسے انجیکشن کے ذریعے سے بھی جسم میں اتارا جاتا ہے۔ان میں سے کتنے افراد کی ہلاکت ’میتھ ایمفٹامین‘ نامی خطرناک نشہ آور عنصر کے استعمال سے ہوتی ہے اس کا اندازہ لگانا مشکل ہے البتہ عادی بنادینے کی خصوصیت کا حامل یہ کیمائی مرکب انسان کو ذہنی و جسمانی طور پر تباہ کردیتا ہے۔مْلک کے تعلیمی اداروں میں یہ منشیات پہنچتی کس طرح سے ہیں؟ اس بارے میں طلبہ کا کہنا ہے کہ اْن کے کالج اور یونیورسٹی کے گارڈز اہم کردار ادا کرتے ہیں کْچھ تعلیمی اداروں کے باہر کھڑے چند ٹیکسی چلانے والے بھی یہ کام کرتے ہیں۔ معلومات حاصل کرتے ہوئے یہ بھی پتہ چلا کہ اس کام میں تعلیمی اداروں کے قریب موجود ہوٹل میں کام کرنے والے اور چند ایک جرنل سٹور بھی ملوث ہیں تعلیمی اداروں میں منشیات کے استعمال کے حوالے سے ایسی بہت سی باتیں سامنے آئی ہیں کہ جن کے بعد یہ کہا جا سکتا ہے کہ تعلیمی اداروں کی انتظامیہ اس سارے معاملے میں کہیں نہ کہیں ضرور قصور وار ہے۔ سے یہ نشہ اب بعض پروفیشنل کالجز اور یونیورسٹیز کے ہاسٹلوں میں بھی پہنچ چکا ہے جہاں اس کے استعمال کرنے والوں میں حیران کن طور پر طالبات بھی شامل ہیں.آئس ایک شیریں زہر کی مانند ہے، یہ پہلے آپ کی خود اعتمادی کو بڑھاتا ہے لیکن پھر آپ کے جسم کو کھاجاتا ہے اور اسے آہستہ آہستہ کمزور کردیتا ہے کرسٹل کی طرح نظر آنے والے ’’میتھ ایمفٹامین‘‘ کو عرفِ عام میں ’’آئس‘‘ یا ’’گلاس‘‘ بھی کہتے ہیں۔ یہ مختلف سائز اور ہیئت کے ہوتے ہیں جنہیں نشے کے عادی افراد سگریٹ، ناک سے کھینچ کر اور انجیکشن کے ذریعے اپنے جسم میں داخل کرتے ہیں۔ یہ عنصر انسان کے مرکزی اعصابی نظام پر اثر کرتا ہے اور اس کے استعمال کے بعد طبیعت میں اچانک سے بہتری آنے کا احساس ہونے لگتا ہے، جسم میں طاقت سی ا?جاتی ہے اور انسان خود کو پراعتماد محسوس کرنے لگتا ہے۔اس کیمیائی مرکب میں ’’ڈوپیمن‘‘ اور ’’سیوڈو ایفیڈرین‘‘ شامل ہوتے ہیں۔ جسم میں داخل ہونے کے بعد ڈوپیمن انسان کے دماغ میں خوشی کا جھوٹا احساس پیدا کرتا ہے جبکہ سیوڈوایفیڈرین جسے کھانسی کے شربت میں بھی استعمال کیا جاتا ہے، یہ دماغ کو سکون پہنچاتا ہے۔ ان کے اثرات 6 سے 24 گھنٹے تک برقرار رہتے ہیں آئس پینے کے بعد انسان کے اندر توانائی دو گنا ہوجاتی ہے اور ایک عام شخص 24 سے لے کر 48 گھنٹوں تک جاگ سکتا ہے اور اس دوران انھیں بالکل نیند نہیں آتی، تاہم جب نشہ اترتا ہے تو انسان انتہائی تھکاوٹ اور سستی محسوس کرتا ہے۔نشے کی بری لت انسان کو موت تک لے جاتی ہے اورساتھ ہی نشہ کرنے والوں کا خاندان بھی ان کے ساتھ روز ایک نئی موت مرتا ہے اس کا اندازہ اس واقعے سے لگایا جا سکتا ہے کہ جب انڈین پنجاب کے ضلع ترن تارن کی تحصیل پتی کے 50 سالہ لائن مین مختیار سنگھ کا بڑا بیٹا منجیت مارچ 2016 میں زیادہ مقدار میں منشیات لینے کی وجہ سے ہلاک ہو گیا تھا جواں سال بیٹے کی موت کے بعد مختیار نے منشیات کے عادی دیگر افراد کے بچاؤ اور لوگوں کو منشیات کے اثرات سے آگاہ کرنے کو اپنا نصب العین بنا لیا ہے،اینٹی نارکوٹکس فورس کے مطابق پاکستان میں منشیات کا ایک شخص اوسطاً یومیہ 230 روپے اپنے نشے کو پورا کرنے کے لیے خرچ کرتا ہے اور چونکہ کرسٹل میتھ ایمفٹامین نسبتاً مہنگا ملتا ہے اس لیے اس کا استعمال معاشرے میں اس طبقے کے لوگوں میں زیادہ دیکھنے میں آتا ہے جو معاشی طور پر مستحکم ہیں۔ایک کلو گرام آئس کی قیمت ساڑھے چھ لاکھ روپے سے 11 لاکھ روپے تک ہوتی ہے۔ پشاور میں خالص ترین آئس کی فی گرام قیمت 8 ہزار روپے تک ہوسکتی ہے جبکہ مقامی طور پر تیار کی گئی آئس جسے ’’لاہوری آئس‘‘ کہتے ہیں، اس کی قیمت 1500 سے 2 ہزار روپے فی گرام ہوسکتی ہے۔2015میں کراچی کے پوش علاقے ڈیفنس میں قائم ایک میتھ لیب میں ہونے والے دھماکے کے بعد اینٹی نارکوٹکس فورس نے اس نشہآور مرکب کے خلاف کریک ڈاؤن شروع کیا تھا تاہم اس کے بعد سے قانون نافذ کرنے والوں کو کوئی خاص کامیابی حاصل نہیں ہوئی۔بڑے پیمانے پر استعمال ہونے والی نشہ آور اشیاء یعنی ہیروئین، افیون اور حشیش کے مقابلے میں کرسٹل میتھ استعمال کرنے والے افراد کی تعداد نسبتاً کم ہے اور یہی وجہ ہے کہ یہ حکام کی ترجیحات میں شامل نہیں۔ تاہم نیوز رپورٹس سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ نشہ آہستہ آہستہ ملک کی ’’شہری اشرافیہ‘‘ میں سرائیت کرتا جارہا ہے۔ملک میں منشیات کا ایک خطرناک اور عادی بنادینے والا مرکب ’آئس‘ آہستہ آہستہ ہمارے نوجوانوں کو اپنی گرفت میں لے رہا ہے.منشیات پر جب بھی بات ہوتی ہے تو صوبہ سرحد کے قبائلی علاقوں اور افغانستان کا ذکرضرور آتا ہے۔ لیکن اس میں ہمیشہ منشیات کی کاشت اور خرید وفروخت کو ایک مسئلہ کے طور پر پیش کیا جاتا ہے.آئس کا نشہ پشاور اور قبائلی علاقوں میں باآسانی دستیاب ہے جہاں خاص مقامات پر یہ فروخت کیا جاتا ہے تاہم ہر کوئی اسے نہیں خرید سکتا افغانستان سے بھی یہ نشہ بڑی مقدار میں یہاں آتا ہے.پشاور کے سینیئر سپرنٹنڈنٹ پولیس (ایس ایس پی) آپریشنز سجاد خان نے بتایا کہ ’’آئس ہمارے لیے ایک سنگین مسئلہ بنتا جارہا ہے، ہمیں اس کی لین دین کرنے والے افراد کو چند روز بعد رہا کرنا پڑتا ہے کیوں کہ ان کے پاس اس مرکب کی انتہائی کم مقدار موجود ہوتی ہے اور بعض اوقات تو 10 گرام سے بھی کم. پاکستان کے موجودہ قوانین کے مطابق منشیات فروش کو سزا دلوانے کے لیے ضروری ہے کہ پولیس اسے کم سے کم 100 گرام منشیات ساتھ پکڑے جبکہ کرسٹل میتھ کے ڈیلرز کو 50 گرام سے زیادہ مقدار ساتھ رکھنے کی ضرورت ہی نہیں پڑتی۔ امید ہے ارکان پارلیمنٹ موجودہ قوانین میں ترمیم کرکے کرسٹل میتھ کو واضح طور پر غیر قانونی قرار دے دیں گے۔پاکستان میں زیادہ تر کرسٹل میتھ درآمد شدہ ہوتا ہے البتہ یہاں کچھ لیب موجود ہیں جو مقامی طور پر یہ مرکب تیار کرتے ہیں۔ 2015میں کراچی کے پوش علاقے ڈیفنس میں قائم ایک میتھ لیب میں ہونے والے دھماکے کے بعد اینٹی نارکوٹکس فورس نے اس نشہ آور مرکب کے خلاف کریک ڈاؤن شروع کیا تھا تاہم اس کے بعد سے قانون نافذ کرنے والوں کو کوئی خاص کامیابی حاصل نہیں ہوئی۔ملک کے بڑے شہروں میں بحالی نو کے مراکز اِس منشیات کے حد سے زیادہ استعمال یا اوور ڈوز سے متاثرہ مریضوں کا علاج کررہے ہیں، یہ مراکز انتہائی محتاط طریقے سے چلائے جارہے ہیں کیوں کہ انہیں یہاں آنے والے افراد کی شناخت کو بھی خفیہ رکھنا ہوتا ہے اور انہیں شرمندگی سے بچانا ہوتا ہے جبکہ یہ کافی مہنگے بھی ہیں تاہم اب تک حکومت کی طرف سے اس نشے کی روک تھام کے سسلسلے میں کوئی قابل ذکر اقدامات نہیں کیے گئے اور نہ ابھی تک خصوصی طور پر اس کے سمگلروں اور پینے والوں کے لیے کوئی سزا مقرر کی گئی ہے حکومت کی جانب سے اس وقت اس برائی کو روکنا ور نوجوان نسل کو اس کی لت سے بچالینا انتہائی ضروری ہے ساتھ ہی لوگوں میں منشیات کی لت کے بارے میں آگاہی پھیلانا بھی وقت کی اہم ضرورت ہے کیونکہ منشیات ہی بہت سے جرائم اور سماجی برائیوں کی جڑ ہیں.آئس کے خلاف آگاہی مہم اور کارراوائی میں طلبہ اور اساتذہ حکومت کا ساتھ دینگے اور حکومت کو بھی چاہیے کہ آئس نشے اور اس میں مولوث عناصر کے خلاف سخت کارروائی کرے تاکہ یہ ناسور مزید پھیلنے سے روکا جائے.