”گورنر ہاﺅس کی دیواریں گرادیں تو جماعت اسلامی ’امریکہ مردہ باد ‘ کہاں لکھے گی“ اس سوال کے جواب میں اینکر پرسن نے ایسا جواب دے دیا کہ آپ بھی ہنس ہنس کر بے حال ہوجائیں گے

تحریک انصاف کی حکومت کی جانب سے گورنر ہاﺅس لاہور کی دیواریں گرائے جانے کے عمل کا آغاز کیاجاچکا ہے۔ حکومت کے اس فیصلے پر حامیوں کی جانب سے وعدہ پورا ہونے کا جشن منایا جارہا ہے تو مخالفین اس کی شدید مخالفت کررہے ہیں۔

مسلم لیگ ن کی ترجمان مریم اورنگزیب نے اسے گورنر ہاﺅس پر اسی طرز کا حملہ قرار دیا جس طرح 2014 کے دھرنے میں پی ٹی وی اور پارلیمنٹ پر ہوا تھا۔ دوسری جانب حکومت کا یہ اقدام لاہور ہائیکورٹ میں چیلنج بھی کردیا گیا ہے۔ سوشل میڈیا پر بھی حکومت کے اس اقدام کے بارے میں نوک جھونک کا سلسلہ جاری ہے۔ ن لیگ کے ساتھ تو پی ٹی آئی کی ویسے ہی لگتی ہے لیکن جماعت اسلامی اور تحریک انصاف کا بھی سوشل میڈیا پر میچ پڑا ہوا ہے۔ گورنر ہاﺅس کی دیوار کے حوالے سے جماعت اسلامی کا مذاق بھی بنایا جارہا ہے۔ ایک صارف کی جانب سے سوال اٹھایا گیا کہ ” گورنر ہاﺅس کی دیواریں گرادیں تو جماعت اسلامی کہاں لکھے گی امریکا مردہ باد“۔ یہ سوال اٹھا تو اینکر پرسن طارق متین نے ایسا دلچسپ جواب دے دیا جس سے پاکستانیوں کی جگاڑ کی صلاحیتوں کو سمجھنے میں بڑی مدد ملتی ہے۔ طارق متین نے اپنے کالج کے دور کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ جب وہ کالج میں پڑھتے تھے تو ان کے کالج کے فرش پر امریکی جھنڈے بنے ہوئے تھے تاکہ انہیں روندا جاسکے ، اس لیے جماعت کے پاس آپشن بہت ہیں۔ خیال رہے کہ جماعت اسلامی کو بطور جماعت امریکہ کی سخت مخالف سمجھا جاتا ہے۔ ماضی میں ’ گو امریکہ گو‘ کا نعرہ ہو یا امریکہ مردہ باد ، ہر جگہ پر جماعت اسلامی امریکہ مخالف ریلیوں اور مظاہروں کی قیادت کرتی ہوئی نظر آیا کرتی تھی۔ جماعت اسلامی کے سابق امیر منور حسن نے کالعدم تحریک طالبان پاکستان کے امیر کے ڈرون حملے میں مارے جانے پر امریکہ کی مخالفت میں انہیں نہ صرف شہید قرار دے دیا تھا بلکہ وہ اس سے بھی آگے بڑھ گئے تھے جس پر خوب ہنگامہ مچا تھا۔ جماعت اسلامی اور امریکہ کی ’ دشمنی ‘ ہی ممکنہ طور پر وہ وجہ ہوسکتی ہے جس کی وجہ سے گورنر ہاﺅس کی دیواروں اور امریکہ مردہ باد کے تعلق کے حوالے سے سوال اٹھا ہے۔