کراچی بڑی تباہی سے بچ گیا،پھٹنے والے بم کا وزن آدھا کلو تھا ،لوگوں کے جمع ہونے کے بعد سوا دو کلو وزنی دوسرا بم کیوں نہیں پھٹ سکا؟چونکادینے والے انکشافات

0
410
کراچی(این این آئی) قائد آباد میں ہونے والے دھماکے کا مقدمہ سی ٹی ڈی میں انسداد دہشت گردی ایکٹ کے تحت درج کرلیا گیا ہے۔سرکار کی مدعیت میں ایف ائی آر نمبر 147/18 کے تحت درج مقدمے میں دفعہ سیون اے ٹی اے کو بھی شامل کیا گیا ہے۔گزشتہ شب ہونے والے دھماکے سے دو افراد جاں بحق اور10 زخمی ہوگئے تھے جب کہ ایک اسپتال اور ایک عمارت کو نقصان پہنچا تھا۔ دھماکے سے قریب کی عمارتوں اور اسپتال کے اندر اور باہر کے تمام شیشے ٹوٹ گئے۔ابتدائی تحقیقاتی رپورٹ کے مطابق دھماکہ خیز مواد میں موجود کیلوں اور نٹ بولڈ کی وجہ سے نقصانات ہوئے اور سڑک پر لگے 20 ٹھیلے اور پتھاروں جب کہ بس اسٹاپ اور مارکیٹ میں موجود افراد بھی متاثر ہوئے۔ذرائع بم ڈسپوزل اسکواڈ کے مطابق دھماکہ ریموٹ کنٹرول ڈیوائس کے ذریعے کیا گیا، پہلے بم کا وزن آدھا کلو تھا، دوسرے بم کا وزن دو سے سوا دو کلوتھا۔ذرائع نے بتایا ہے کہ دھماکہ کرنے والا اسی مقام کے قریب موجود تھا اور دوسرے بم کی رینج سے دور ہوگیا ، جس کی وجہ سے وہ پھٹ نہ سکا۔بم ڈسپوزل اسکواڈ نے واٹرشاٹ کے ذریعے دوسرے بم کو الگ کیا، واٹر شاٹ کے اثر سے دوسرے بم کا ریموٹ اس سے الگ ہوگیا اور ریموٹ سیل بھی زمین پر گرگئے۔پولیس ذرائع کے مطابق دہشت گردوں نے پہلا دھماکہ کم شدت کا کیا اور لوگوں کے جمع ہونے پر دوسرا دھماکہ ہونا تھا جس سے بہت زیادہ نقصان ہوتا تاہم خوش قسمتی سے دوسرا بم بروقت نہ پھٹ سکا اور پولیس نے بم کو ناکارہ بنا دیا۔دھماکے میں زخمی ہونے والے تمام افراد جناح اسپتال میں زیرعلاج ہیں جہاں ان کی حالت خطرے سے باہر بتائی جاتی ہے۔کراچی کے علاقے قائد آباد میں پولیس نے خونریزی کا بڑا منصوبہ ناکام بنا دیا جب کہ قائد آباد میں ہونے والے بم دھماکے میں پولیس کسی نتیجے پر نہ پہنچ سکی۔قائد آباد میں پولیس نے ملنے والے دوسرے بم کو ناکارہ بنا دیا جو ٹائم ڈیوائس کے ساتھ نصب تھا اور جس کا وزن دو کلو سے زائد تھا تاہم پولیس نے بروقت کارروائی کرتے ہوئے شہر کو بڑے نقصان سے بچا لیا۔ذرائع بم ڈسپوزل اسکواڈ کے مطابق ناکارہ بنایا جانے والا بم ٹفن میں رکھا گیا تھا جسے انچارج کاؤنٹر ٹیرارزم ڈیپارٹمنٹ (سی ٹی ڈی)مظہر مشوانی کی زیر نگرانی قائد آباد تھانے کے عقبی گراؤنڈ میں ناکارہ بنایا گیاجب کہ اس دوران رینجرز کے افسران بھی موجود تھے۔پولیس ذرائع نے بتایا کہ دہشت گردوں نے پہلا دھماکہ کم شدت کا کیا اور لوگوں کے جمع ہونے پر دوسرا دھماکہ ہونا تھا جس سے بہت زیادہ نقصان ہوتا تاہم خوش قسمتی سے دوسرا بم بروقت نہ پھٹ سکا اور پولیس نے بم کو ناکارہ بنا دیا۔گزشتہ روز قائد آباد میں ہونے والے بم دھماکے میں پولیس کی تحقیقات جاری ہیں تاہم پولیس اب تک کوئی حتمی رپورٹ تیار نہیں کر سکی ہے۔پولیس کے مطابق قائد آباد میں ہونے والا دھماکہ بارود کا ہی تھا لیکن اب تک یہ معلوم نہیں ہوسکا کہ کون سا بارود استعمال کیا گیا تھا تاہم دھماکہ انتہائی کم شدت کا تھا۔گزشتہ روز ہونے والے دھماکے میں جاں بحق ہونے والے دونوں افراد کا پوسٹ مارٹم مکمل کر لیا گیا ہے۔ پوسٹ مارٹم جناح اسپتال کے میڈیکو لیگل آفیسر (ایم ایل او) ڈاکٹر اعجاز نے کیا۔ایم ایل او ڈاکٹر اعجاز کے مطابق ایک لاش بری طرح جھلسی ہوئی تھی جس کے جسم پر اسپلنٹر اور بم میں استعمال دوسرے چھوٹے پرزوں کے نشانات تھے جب کہ لاش کا نچلا دھڑ شدید متاثر ہوا ہے۔ دوسری لاش کے سینے میں کوئی باریک چیز گھسی تھی جس کی وجہ سے دل پر زخم آیا اور موت واقع ہو گئی۔قائد آباد میں گزشتہ شب دھماکے کے بعد قریب سے ملنے والے بم کے متعلق ماہرین کا کہنا ہے کہ برآمد ہونے والا بم انتہائی پیچیدہ ساخت کا تھا۔اب تک کی تحقیقات کے مطابق دھماکے کی جگہ سے ملنے والا پارسل بم بھی دیسی ساختہ تھا، برآمد ہونے والا بم انتہائی پیچیدہ ساخت کی ڈیوائس پر مشتمل ہے۔ذرائع نے بتلایا کہ پیچیدہ ساخت کا ہونے کے باعث مذکورہ ملنے والے بم کو ناکارہ بنانے میں بم ڈسپوزل اسکواڈ کو کافی وقت لگا۔ذرائع نے مزید بتایا ہے کہ بم دھماکے کے بعد گزشتہ رات ملیر میں پولیس اور قانون نافذ کرنے والے اداروں نے ٹارگٹڈ آپریشن کیا تاہم جس کے دوران کوئی گرفتاری عمل میں نہ آسکی۔ادھر قائد آباد پل کے نیچے ہونے والے دھماکے کے بعد بند کی گئی سڑکوں کو ٹریفک کے لیے کھول دیا گیا ہے، قائد آباد پل سے داود چورنگی جانے والی سڑک بھی کھول دی گئی ہے۔

LEAVE A REPLY