ملائیشیا کے بادشاہ تاریخ میں پہلی مرتبہ تخت سے دستبردارہوگئے،کھیلوں کے شوقین بادشاہ کی ماسکو کی سابق حسینہ سے شادی کی خبریں، حیرت انگیز انکشافات

کوالالمپور(آئی این پی) ملائیشیا کے بادشاہ سلطان محمد پنجم نے ملکی تاریخ میں پہلی مرتبہ تخت سے دستبرداری کا اعلان کیا ہے۔فرانسیسی خبررساں ادارے اے ایف پی کی رپورٹ کے مطابق 1957 میں برطانیہ سے آزادی کے بعد پہلی مرتبہ مسلم اکثریتی ملک ملائیشیا کے بادشاہ عہدے سے دستبردار ہوئے ہیں۔سلطان محمد پنجم کا اقدام نومبر کے آغاز میں 2 ماہ کی طبی رخصت کے بعد سامنے آیا ہے، اس دوران ،ماسکو کی سابقہ حسینہ سے ان کی شادی کی غیر مصدقہ خبریں بھی گردش میں تھیں۔ قومی محل کی جانب سے جاری کیے گئے بیان میں ان کے استعفی کی تصدیق کی گئی،ملائیشیا کے یہ جوان دل بادشاہ گاڑی چلانے اور دیگر کھیلوں کے شوقین ہونے کی وجہ سے کافی مقبول ہیں۔بیان میں کہا گیا کہ ملائیشیا کے معزز بادشاہ نے عوام کو اتحاد، رواداری اور مل جل کر کام کرنے کی تلقین کی ہے ، بیان پر شاہی محل کے نگران وان احمد داہلان عبدالعزیز کے دستخط تھے۔تاہم شاہی حکام کی جانب سے استعفی کی کوئی وجوہات بیان نہیں کی گئی جس کی وجہ سیسلطان پنجم کے استعفی پر سوال اٹھایا جارہا ہے۔سلطان محمد پنجم دسمبر 2016 میں تخت نشین ہوئے تھے اور نومبر 2018 میں انہوں نے علاج کی غرض سے عارضی رخصت لی تھی۔بعد ازاں آن لائن ان سے متعلق روس میں سابقہ مس ماسکو سے شادی کی رپورٹس بھی گردش میں تھیں۔تاہم ملائیشیا میں شاہی حکام کی جانب سے بادشاہ کی شادی کی افواہوں پر کوئی تبصرہ نہیں کیا گیا نہ ہی ان کی صحت سے متعلق کوئی تفصیلات جاری کی گئیں۔ملائیشیا میں مسلم بادشاہت کا بہت احترام کیا جاتا ہے اور ان پر تنقید کرنا منع ہے۔رواں ہفتے ملک میں شاہی حکام کی خصوصی ملاقات کی اطلاعات کے بعد بادشاہ کے مستقبل سے متعلق شکوک و شبہات میں شدت آئی تھی۔ملائیشیا میں آئینی طور پر شاہی نظام رائج ہیجس کے تحت ہر 5 سال بعد ملائیشیا کی 9 مختلف ریاستوں کے حکمرانوں میں سے ایک تخت نشین ہوتا ہے۔تخت نشینی کا یہ نظام 1957 میں برطانیہ سے آزادی حاصل کرنے کے بعد عمل میں آیا تھا اور سلطان محمد پنجم تخت سے دستبردار ہونے والے پہلے بادشاہ ہیں۔سرکاری میڈیا کے مطابق سلطان محمد پنجم نے آکسفورڈ کے سینٹ کراس کالج اور آکسفورڈ سینٹر فار اسلامک اسٹڈیز سے تعلیم حاصل کی تھی۔ملائشیا کیے سلطانوں کی تاریخ 15ویں صدی کے ملائی سلطان سے جاملتی ہے اور بادشاہ کو یانگ دی پیرتن آگونگ یعنی عظیم حکمران کہا جاتا ہے۔