مجھے اڑان بھرنے دو

بچپن بھی کتنا خوب صورت اور بے فکر ہوتا ہے۔ جو دل میں آئے وہ کرو۔ لیکن بیٹیاں کیوں کہ بہت نازک ہوتی ہیں۔ اور انہیں دوسرے گھر جانا ہوتا ہے ۔اس لیے ان پر کافی نظر رکھی جاتی ہے۔

میں آشی! ایک بے فکر اور ہواؤں کے ساتھ اُڑنے والی لڑکی تھی ۔ امیّ کی کوئی بات سنتی نہیں تھی اور بابا کی بڑی چہیتی تھی۔ وہ میری نٹ کھٹ شرارتوں کو سرہاتےتھے۔ اور میری رانی بیٹی کہہ کر میرا ماتھا چوم لیتے تھے۔ اور ان کا یہی پیار میرا حوصلہ بلند کرتا تھا۔ امیّ کی فکریں آسمانوں کو چھو رہیں تھیں۔ گڑیا گڈے کی شادی ، چَھم چَھم اور برف پانی کھیل کھیل کر بچپن کے مزے لے رہی تھی۔ پڑھائی کا سلسلہ بھی ساتھ ساتھ جاری تھا اور میرا شمار اسکول کی اچھی طالبات میں ہوا کرتا تھا۔

وقت بھی کتنی تیزی سے ہوا کے جھونکے کی طرح گزر جاتا ہے۔ جیسے کوئی آندھی چل رہی ہو اور سب کچھ سیکنڈوں میں اِدھر سے اُدھر ہوگیا ہو۔ بچپن سے لڑکپن میں پہنچی تو امیّ کی سمجھائی ہوئی باتوں پر کچھ کان دھرنے شروع کردیے تھے میں نے! لیکن دل کے کسی کونے میں ابھی بھی شرارتیں غوطے کھا رہیں تھیں۔

یہ کیا ہے؟ ہر وقت ٹی وی کے سامنے بیٹھی رہتی ہو۔ چلو ہاتھ بٹاؤ میرا ۔ امیّ! مجھ سے نہیں ہوتے یہ کام ۔ ایک تو پڑھائی کا اتنا بوجھ ۔ ریلیکس بھی نہیں ہونے دیتیں آپ۔ کچھ شرم کرلو! ہمیشہ میرے پاس نہیں رہنا۔ دوسرے گھر جانا ہے تم نے۔ لو بھئی! وہ دن آگیا تھا جب میرے کانوں نے پہلی بار یہ جملہ سنا “دوسرے گھر جانا ہے تم نے ” ۔

کالج ختم ہورہا تھا اور ساتھ ساتھ گھرداری بھی سکھائی جارہی تھی۔ امیّ کی پوری کوشش تھی کہ مجھے مکمل گھر داری آجائے۔ تاکہ میں دوسرے گھر جاکر ان کا نام نہ ڈبو دوں۔ اُف کتنا کام کروں میں! آج میں بابا کو سب بتاوں گی ، کہ آپ مجھ سے کتنا کام کرواتی ہیں۔ شام میں بابا آئے اور میں نے اپنی گردان ان کے سامنے رکھ دی۔ پہلے تو میری رانی بیٹی کہہ کر میرا ماتھا چوم لیا۔ اور پھر کہنے لگے بیٹی تمہاری امیّ یہ سب تمہاری خوشحال زندگی کے لیے کرواتی ہیں۔ وہ تم سے بہت پیار کرتی ہیں۔ اس دن مجھے ماں باپ کی دوری کا احساس ہوا، اور میں نے خود سے پوچھا، کیا واقعی میں نے اپنے امیّ بابا کو چھوڑ کر چلے جانا ہے؟

ابھی کالج ختم ہی ہوا تھا اور میں یونیورسٹی میں داخلہ لینے کا سوچ رہی تھی کہ میں نے امی کو بابا سے بات کرتے سُنا۔ ایک بہت اچھے گھر سے اپنی آشی کے لئے رشتہ آیا ہے۔ وہ لوگ ملنا چاہ رہے ہیں۔ یہ سن کر تو جیسے میرے دل پر آسمانی بجلی گر گئی ہو۔

کچھ لوگ تمہیں دیکھنے آرہے ہیں۔ اچھی طرح تیار ہوجانا۔ امیّ کون لوگ ہیں یہ؟ کیا ساری زندگی ہمارے پاس رہنا ہے ۔ ایک دن تو جانا ہے نہ تہمیں اپنے گھر۔ تو کیا یہ میرا گھر نہیں ہے، جس میں بچپن سے آج تک رہ رہی ہوں میں ؟ یہ بھی تہمارا گھر ہے۔ مگر یہ تمہارے بابا کا گھر کہلائے گا۔ اور ویسے بھی تمہیں یہاں آنے سے کوئی روکے گا نہیں۔ میں نہیں جاؤں گی، میں کیوں جاؤں؟ اُف یہ میرے بابا کا گھر ہے۔

وہ لوگ مجھے دیکھنے آئے اور انہیں میں پسند آگئی ۔ رشتہ پکا ہوگیا۔ اور اس دن میں اپنے کمرے میں گئی اور تکیے میں منہ چھپا کر بہت روئی۔ بڑے مان اور دعاؤں کے ساتھ امیّ بابا نے مجھے رخصت کیا۔ اوربابا نے میرا ہاتھ اس شخص کے ہاتھ میں دے دیا۔ جس کے ساتھ اب مجھے ساری زندگی گزرانی تھی۔ ایک ہی دن میں آشی سے بہو، چاچی اور مامی بن گئی تھی۔ صبح سے گھرداری سنبھالتے سنبھالتے کیسے وقت گزر جاتا تھا کچھ پتہ ہی نہیں چلتا تھا۔ نہ لڑکپن یاد رہا اور بچپن تو جیسے کہیں کھو ہی گیا تھا۔ آشی نہیں تھی، میں اب سرمد کی بیوی تھی۔ شرارتی آشی اب اپنے شوہر کی رضا میں خوش رہتی تھی۔

وہ دن میری زندگی کا سب سے خوب صورت دن تھا۔ جب اللہ تعالیٰ نے مجھے ماں بننے کی سعادت دی، اور بیٹے جیسی نعمت سے نوازا ۔ ذمہ داریاں مزید بڑھ گئیں تھیں۔ میں خود کو بھول گئی تھی۔ اور وقت تو جیسے پر لگا کر اڑتا جارہا تھا۔ تمام فرائض پوری ذمے داری کے ساتھ پورے کررہی تھی۔ ایک دن آئینے میں اپنے بال سنوار رہی تھی کہ کچھ سفید بال دکھائی دینے لگے۔ اور تب ہی دل سے آواز آئی۔ آواز میں وہی چہچہاہٹ اور شرارت بھری تھی۔ آشی تم بوڑھی ہوگئی ہو! وہی جانی پہچانی آواز میرا مذاق اڑا رہی تھی۔ پہلے تو میں ہلکا سا مسکرائی اور پھر میری آنکھیں نم ہوگئیں۔

وقت کے ساتھ دوڑتے دوڑتے کتنا آگے آگئی تھی میں! لیکن بہت کچھ پیچھے چھوٹ گیا تھا۔ میں پڑھنا چاہتی تھی؟ آگے بڑھنا چاہتی تھی؟ اپنی زندگی کو کُھل کے جینا چاہتی تھی؟ ایسے کئی سوال تھے جو میرے اندر اٹھ رہے تھے۔ رات کی اس تنہائی میں، میں اپنے کمرے کے ٹیرس میں کھڑی ہوں۔ گلیاں سنسان ہیں۔ مگر اس سناٹے میں بہت شور ہے۔ کہیں چھوٹی سی معصوم سی آشی اپنی سہلیوں کے ساتھ آنکھ مچولی کھیل رہی تھی۔ اور کسی گلی سے آشی کالج کا بھاری بستہ اٹھائے تھکن سے نڈھال گھر کی طرف آرہی تھی۔ یہ سب سوچ کر میں بس مسکرا دیتی ہوں۔ کیوں کہ وقت کو واپس لانا میرے اختیار میں نہیں۔

بیٹی سے لیکر عورت بننے کا سفر بہت طویل ہوتا ہے۔ اور ایک عورت ہزاروں مشکلات آنے کے باوجود بھی سب کو خوش رکھنے کی کوشش کرتی ہے۔ اور ہر اچھے برے وقت کا ہنستے ہنستے سامنا کرلیتی ہے۔ ایک اچھی عورت چاہے وہ بیٹی ہو، بیوی ہو، بہو ہو یا ماں ہو وہ ایک پھول کی مانند ہوتی ہے۔ جو جس ہاتھ میں بھی جاتا ہے ، اپنی خوشبو سے اس ہاتھ کو مہکا دیتا ہے۔

روزانہ رات میں تھک ہار کر جب میں بستر پر جاتی ہوں، تو مجھے اپنے ماضی کا ایک ایک لمحہ یاد آتا ہے۔ کچھ سہانے پَل ، کچھ دُکھی پَل۔ لیکن پھر یہ سوچ کر سکون آجاتا ہے کہ یہی اصل زندگی تھی۔ جس میں اللہ تعالیٰ نے میرے ذمے کچھ فرائض رکھے تھے۔ جنہیں میں نے پورا کرنا تھا کہ میری ذات سے ہر شخص خوش رہے۔ اور یہ احساس ہی مجھے خوشی دیتا ہے۔ اور پھر میں ایک نئی صبح کا الارم لگا کر سوجاتی ہوں۔